صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی ملک اس وقت تک محفوظ نہیں جب تک اسرائیل بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کرتا۔
صدر ایردوان نے ترک پارلیمنٹ میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ کوئی بھی ریاست اس وقت تک محفوظ نہیں جب تک اسرائیل بین الاقوامی قانون کو تسلیم نہ کرے اور خود کو اس کا پابند نہ سمجھے۔
انہوں نے جنوبی غزہ کے شہر رفح میں ایک پناہ گزین کیمپ پر اتوار کے روز اسرائیل کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نہ صرف فلسطین یا غزہ بلکہ پوری دنیا کے امن اور انسانیت کے لیے خطرہ ہے۔
صدر ایردوان نے غزہ میں جاری مظالم کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ جیسے اداروں سمیت بین الاقوامی نظام کی نااہلی پر تنقید بھی کی،جنکی بزدلی کے باعث 36,000 سے زیادہ فلسطینی مارے جا چکے ہیں اور بڑے پیمانے پر تباہی، بے گھر ہونے اور قحط کے حالات کا باعث بنے ہیں۔
غزہ پر اسرائیلی جنگ میں مغرب کی مبینہ شراکت پر مذمت کرتے ہوئے صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ کوئی بھی عقیدہ معصوم شہریوں کو اپنے خیموں میں جلانے کو جائز نہیں سمجھتا۔
انہوں نے کہا کہ امریکی ریاست، آپ کے ہاتھ بھی خون سے رنگے ہوئے ہیں، یورپی سربراہان مملکت و حکومت، آپ خاموش رہنے کی وجہ سے اسرائیل کی بربریت میں شریک ہو گئے ہیں۔
صدر ایردوان نے کہا کہ غزہ میں "انسانیت کی موت” کی وجہ سے "جمہوریت، انسانی حقوق، تقریر اور پریس کی آزادی، خواتین اور بچوں کے حقوق” جیسی اقدار ختم ہو گئی ہیں۔
صدر نے کہا کہ اسرائیل کی نسل کشی، ظلم اور بربریت” کو "انسانیت کے متحدہ اتحاد کے ذریعے روکنا چاہیے، اس سے پہلے کہ نیتن یاہو اور ان کے قاتل نیٹ ورک قابو سے باہر ہو جائیں۔
