turky-urdu-logo

حجاب، حوصلہ اور خواب – ایک ترک ماں کی بیٹی کے ساتھ گریجویشن کی کہانی

(تحریر: شبانہ ایاز، انقرہ)   ترکیہ کے قدیم شہر مارڈین کی پہاڑی گلیوں میں پروان چڑھنے والی ایک خاموش سی لڑکی – ایجان اوزونے (Aycan Ozonay) – بچپن سے ہی علم کی شیدائی تھی۔ مگر جب اس نے دس برس کی عمر میں خوشی سے پہلا اسکارف پہنا، تو اسے کیا معلوم تھا کہ ایک دن یہی اسکارف اس پر  اسکول کے دروازے بند کر دے گا؟

1997کی فوجی مداخلت نے صرف حکومت کو ہی نہیں بدلا، بلکہ سیکولرازم کے نام پر بہت سی  اسلام پسند خواتین کی زندگیاں روک دی گئیں۔ ایجان ان ہزاروں لڑکیوں میں سے ایک تھی جنہیں محض حجاب کی وجہ سے تعلیم، ملازمت اور دیگر حقوق سے محروم کر دیا گیا۔ استاد بننے کا خواب دیکھنے والی یہ لڑکی اسکول کے گیٹ سے واپس لوٹا دی گئی، صرف اس لیے کہ وہ "حجاب”  پہنے ہوئے تھی۔

مگر ظلم کے اندھیروں میں امید کا چراغ جلتا رہا۔سال بیت گئے، ایجان نے شادی کی، بچوں کی پرورش کی، قالین بننے میں مہارت حاصل کی۔ لیکن اندر کہیں تعلیم کی پیاس باقی رہی۔ اور پھر تقدیر نے وہ دروازہ کھولا جو برسوں پہلے بند ہو گیا تھا۔

2023میں، جب اس کی بیٹی سیول (Sevval) یونیورسٹی میں داخلہ لینے لگی، تو ایجان کو بھی موقع ملا کہ وہ 34 سال سے زائد عمر کی خواتین کے لیے مخصوص کوٹے میں داخلہ لے۔ یہ اس کے لیے صرف ایک تعلیمی قدم نہیں تھا — یہ انصاف کی بازیابی تھی۔

ماں اور بیٹی اب ساتھی طالب علم تھیں۔ ایک ہی یونیورسٹی، ایک ہی کیفے، ایک ہی کلب۔ ایجان کے لیے یہ دوبارہ جوان ہونے جیسا تھا، جبکہ سیول کے لیے یہ اپنی ماں کو نئے انداز میں دیکھنے کا موقع۔دو سال بعد جب وہ دونوں گریجویشن کے دن یونیفارم اور حجاب پہنے، شانہ بشانہ کھڑی ہوئیں تو وہ منظر صرف ایک تصویر نہیں، بلکہ صدیوں کی مزاحمت کی علامت تھا۔ جب ان دونوں نے اپنی ٹوپیاں آسمان کی طرف اچھالیں، تو اس میں صرف کامیابی نہیں تھی — اس میں وہ تمام خواب شامل تھے جو کبھی روند دیے گئے تھے۔

سیول کہتی ہے

"یہ ہماری گریجویشن تھی۔ ایک بیٹی اپنی ماں کے ساتھ کھڑی تھی۔ ایک ایسا خواب جو مرنے سے انکار کر چکا تھا۔”

ایجان کی جدوجہد اس نسل کے لیے مشعل راہ ہے، جو یہ سمجھتی ہے کہ خواب صرف جوانی میں پورے ہوتے ہیں۔ وہ کہتی ہیں:

"تعلیم کی کوئی معیاد نہیں ہوتی۔ سیکھنا زندگی کا سفر ہے، اور اس سفر میں کبھی دیر نہیں ہوتی۔”

یہ کہانی صرف ایک فرد کی نہیں، بلکہ ان لاکھوں خواتین کی ہے جنہوں نے ترکی کی تاریخ کے کٹھن موڑ پر صبر، حوصلے اور ایمان کے ساتھ اپنی پہچان کو بچایا۔

ترکیہ آج جس مقام پر کھڑا ہے، وہاں پہنچنے میں ایسی ہی ماؤں اور بیٹیوں کی قربانیاں شامل ہیں۔ طیب ایردوان کی قیادت میں جب خواتین کو حجاب کے ساتھ تعلیم، ملازمت، اور پارلیمنٹ تک رسائی ملی، تو یہ صرف ایک سیاسی تبدیلی نہیں تھی، یہ ایک تہذیبی انقلاب تھا۔

سیول نے بجا کہا: "جب میں اپنے بچوں کو اس دن کے بارے میں بتاؤں گی تو یہ بھی بتاؤں گی کہ اس کے نیچے ایک حجاب تھا — اور اس کے اندر ایک کہانی تھی۔ اور یہ کہانی ہماری تھی۔ ترکیہ اردو ان تمام حجاب پوش ہیرو خواتین کو سلام پیش کرتا ہے جو خاموشی سے تاریخ کا دھارا بدل دیتی ہیں۔    (بشکریہ: ٹی آر ٹی ورلڈ)

Read Previous

ترکیہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے گستاخانہ خاکے پر شدید عوامی ردعمل، ترک حکومت کی فوری کارروائی قابلِ تحسین

Read Next

صدر ایردوان کی پاکستان، ایران اور آذربائیجان کے سربراہان سے اہم ملاقاتیں، خطے میں اتحاد، ترقی اور استحکام کے فروغ پر اتفاق

Leave a Reply