turky-urdu-logo

خاتونِ اول امینہ ایردوان کی تشویشناک وارننگ،پانچ سال سے کم عمر بچوں کی اموات میں بھوک نمایاں وجہ

بین الاقوامی زیرو ویسٹ ڈے کے موقع پر ترکیہ کی خاتونِ اول امینہ ایردوان نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں پانچ سال سے کم عمر بچوں کی تقریباً نصف اموات بھوک کے باعث ہو رہی ہیں، اور اس سنگین مسئلے کے حل کے لیے فوری عالمی اقدامات ناگزیر ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کی جانب سے 2022 میں ترکیہ کی قیادت میں 30 مارچ کو بین الاقوامی زیرو ویسٹ ڈے قرار دیے جانے کے چوتھے سال کے موقع پر اپنے ویڈیو پیغام میں امینہ ایردوان نے خوراک کے ضیاع کے انسانی اور ماحولیاتی اثرات پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے کہا کہ اگر دنیا بھر میں ضائع ہونے والی خوراک کا صرف ایک چوتھائی حصہ بچا لیا جائے تو عالمی سطح پر بھوک کا خاتمہ ممکن ہے۔ ان کے مطابق اس وقت تقریباً 673 ملین افراد بھوک کا شکار ہیں جبکہ 2 ارب سے زائد افراد متوازن اور مناسب غذا سے محروم ہیں، اور ہر 12 میں سے ایک شخص دائمی بھوک کے خطرے سے دوچار ہے۔

امینہ ایردوان نے کہا کہ ہر سال تقریباً 2.3 ارب ٹن خوراک ضائع ہو جاتی ہے، جو کہ تقریباً 5.8 کھرب کھانوں کے برابر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ خوراک کا ہر ضائع ہونے والا نوالہ دراصل اُن لوگوں کا حق ہے جن کی زندگی اس پر منحصر ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ خوراک کا ضیاع عالمی سطح پر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج کا 8 سے 10 فیصد حصہ بنتا ہے، جو ماحولیاتی آلودگی اور موسمیاتی تبدیلی کے خطرات میں اضافہ کر رہا ہے۔

خوراک کے ضیاع کے حوالے سے انہوں نے بتایا کہ تقریباً 60 فیصد ضیاع گھریلو سطح پر ہوتا ہے، جسے سادہ طرزِ عمل میں تبدیلی کے ذریعے نمایاں طور پر کم کیا جا سکتا ہے۔

انہوں نے ترکیہ کے 2017 میں شروع کیے گئے زیرو ویسٹ منصوبے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس تجربے سے ثابت ہوا ہے کہ رویوں میں تبدیلی ماحولیاتی تحفظ کی مؤثر ترین حکمتِ عملیوں میں سے ایک ہے۔

امینہ ایردوان نے اس بات پر زور دیا کہ معمولی اقدامات، جیسے ایک پھل کو خراب ہونے سے بچانا، بھی پانی، توانائی اور محنت جیسے قیمتی وسائل کے تحفظ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

آخر میں انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ خوراک کے ضیاع کے خلاف مشترکہ اقدامات کیے جائیں تاکہ ایک ایسا منصفانہ عالمی نظام قائم کیا جا سکے جہاں کوئی بچہ بھوکا نہ سوئے۔

Read Previous

ترکیہ میں 5جی ٹیکنالوجی کا آغاز، صدر رجب طیب ایردوان آج باضابطہ اعلان کریں گے

Read Next

ترکیہ میں مطالعہ کا رجحان مضبوط، 3 لاکھ 58 ہزار طلبہ ’کتاب کُرْدو‘ مقابلے میں شامل

Leave a Reply