انقرہ:
سابق ترک سفارتکار گلرو گیزر نے کہا ہے کہ ترکیہ نیٹو کی دوسری سب سے بڑی اور سب سے مضبوط فوج ہے اور روس–یوکرین جنگ کے تناظر میں ترکیہ کی اسٹریٹجک اہمیت غیر معمولی حد تک بڑھ گئی ہے۔
ان کے مطابق، ’’ترکیہ کے بغیر یورپ روس سے نہیں لڑ سکتا۔ ترکیہ یورپ کی لائف لائن بن گیا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ انقرہ خطے میں نہ صرف عسکری توازن کا اہم کردار ادا کر رہا ہے بلکہ توانائی، تجارت اور سکیورٹی سپلائی چین کے اعتبار سے بھی مرکزی حیثیت حاصل کر چکا ہے۔
گلرو گیزر کا کہنا تھا کہ یوکرین جنگ کے بعد یورپی یونین اور نیٹو دونوں کو احساس ہوا ہے کہ ترکیہ کے بغیر خطے میں اسٹریٹجک استحکام ممکن نہیں، اور یہ حقیقت ترکیہ کے جیوپولیٹیکل وزن میں مزید اضافہ کر رہی ہے۔
