turky-urdu-logo

نیٹو عراق مشن ختم، ترک فوج کا کامیاب انخلا؛ خطے کی صورتحال پر ترکی کا اہم مؤقف

انقرہ: ترکی کی وزارتِ قومی دفاع نے اعلان کیا ہے کہ حالیہ علاقائی کشیدگی کے پیش نظر نیٹو عراق مشن کے خاتمے کا فیصلہ کیا گیا، جس کے تحت بغداد میں تعینات ترک مسلح افواج کے اہلکاروں کو بحفاظت وطن واپس منتقل کر دیا گیا۔

وزارت کے مطابق انخلا کا عمل نہایت منظم انداز میں مکمل کیا گیا، جبکہ ترک افواج نے اتحادی ممالک کے اہلکاروں کے انخلا میں بھی مؤثر معاونت فراہم کی۔

ہفتہ وار بریفنگ میں وزارتِ دفاع نے دیگر اہم امور پر بھی روشنی ڈالی۔ یوروفائٹر طیاروں کے منصوبے کے تحت برطانیہ کے ساتھ تکنیکی و لاجسٹک معاہدہ طے پا گیا ہے، جسے ترکی کی فضائی دفاعی صلاحیتوں میں اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

مزید بتایا گیا کہ بحیرہ اسود میں ترکی کے ساحل کے قریب بہہ کر آنے والے امریکی ساختہ بغیر پائلٹ سمندری ڈرون کو سیکیورٹی ٹیموں نے بروقت کارروائی کرتے ہوئے ناکارہ بنا دیا، جبکہ سمندری حدود میں خطرات کی نگرانی جاری ہے۔

قطر میں پیش آنے والے ہیلی کاپٹر حادثے کے حوالے سے ابتدائی طور پر فنی خرابی کو سبب قرار دیا گیا ہے، جبکہ واقعے کی تحقیقات جاری ہیں۔

وزارتِ دفاع نے مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ امریکا، اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی خطے کے امن کے لیے سنگین خطرہ ہے۔ ترکی نے ایک بار پھر زور دیا کہ تنازعات کا حل طاقت کے بجائے مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے نکالا جائے۔

بیان میں اسرائیل کی لبنان، شام اور فلسطینی علاقوں میں کارروائیوں کو بھی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا گیا کہ یہ اقدامات بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور خطے میں عدم استحکام کو بڑھا رہے ہیں۔

ترکی نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر کردار ادا کرتے ہوئے خطے میں امن و استحکام کے قیام کے لیے عملی اقدامات کرے۔

Read Previous

ٹرمپ جنگ جلد ختم کرنے کے خواہاں، ایران سے تنازع 4 سے 6 ہفتوں میں سمیٹنے کی کوششیں

Read Next

"پاکستان بطور ثالث بھارت کے لیے جھٹکا ہے” جیرام رمیش

Leave a Reply