شمالی اوقیانوس معاہدہ تنظیم (نیٹو) کے حکام نے اتحاد کی رواں سال کی سب سے بڑی فوجی مشق میں ترکیہ کے نمایاں کردار کو سراہتے ہوئے ترک افواج کی مضبوط موجودگی اور جدید ڈرون صلاحیتوں کی کارکردگی کو اجاگر کیا ہے۔
نیٹو کے جوائنٹ فورس کمانڈ برونسم کے ترجمان کرنل میتھیاس بوئنکے نے کہا کہ ترکیہ اسٹیڈفاسٹ ڈارٹ 2026 مشق میں سب سے بڑا حصہ ڈالنے والا ملک ہے، جو جرمنی اور بالٹک خطے میں منعقد کی جا رہی ہے۔
بالٹک سمندر کے کنارے پوٹ لوس تربیتی علاقے میں میڈیا اور معزز مہمانوں کے دن کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ
“ترکیہ اس مشق میں سب سے زیادہ حصہ فراہم کرنے والا ملک ہے۔ بنیادی افواج اور یونٹس کا بڑا حصہ ترکیہ سے تعلق رکھتا ہے۔”
اسٹیڈفاسٹ ڈارٹ 2026، جو نیٹو کی سال کی سب سے بڑی مشق ہے، اتحادی ری ایکشن فورس (اے آر ایف) کی تیز رفتار تعیناتی اور انضمام کو جانچنے کے لیے منعقد کی جا رہی ہے۔ جنوری سے مارچ 2026 تک جاری رہنے والی اس مشق میں 11 نیٹو ممالک کے تقریباً 10 ہزار اہلکار حصہ لے رہے ہیں۔
یہ مشق جوائنٹ فورس کمانڈ برونسم کی زیر نگرانی منعقد کی جا رہی ہے، جو نیٹو کے تین آپریشنل مشترکہ کمانڈز میں سے ایک ہے، جبکہ دیگر دو نیپلز اور نورفولک میں قائم ہیں۔ اس کا مقصد اتحاد کی فوری تعیناتی اور باہمی ہم آہنگی کی صلاحیتوں کا جائزہ لینا ہے۔
کرنل بوئنکے نے ترک بحری جہاز ٹی سی جی انادولو کی تعیناتی کو بھی خاص اہمیت دی۔
انہوں نے کہا کہ
“آپ ہمارے پیچھے جو بڑا جہاز دیکھ رہے ہیں وہ انادولو ہے۔ یہ ان ابتدائی مشنز میں سے ایک ہے جب یہ بحیرہ روم سے باہر نکل کر بالٹک سمندر میں تعینات ہوا ہے۔”
بحری مرحلے میں ہسپانوی یونٹس اور ترک افواج کے بڑے دستے نے ایک آبی و بری مشترکہ لینڈنگ آپریشن میں حصہ لیا، جس سے نیٹو کی پیچیدہ مشترکہ کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت کا مظاہرہ ہوا۔
حکام نے اس مشق کے دوران ترکیہ کے بایراکتار ٹی بی 3 ڈرون کی عالمی سطح پر پیشکش کو بھی سراہا۔ اس ڈرون کی ٹی سی جی انادولو سے آپریٹ کرنے کی صلاحیت کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا گیا۔
بوئنکے نے کہا کہ
“اس کی کارکردگی انتہائی کامیاب رہی ہے۔ بغیر پائلٹ نظام جدید جنگ کا مرکزی جزو بن چکے ہیں۔ یہ نگرانی، آپریشنل مؤثریت اور بالآخر جانیں بچانے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔”
انہوں نے مزید کہا کہ بحری پلیٹ فارم کے ساتھ ڈرون آپریشنز کا انضمام مشق کی مجموعی اہمیت میں نمایاں اضافہ کرتا ہے۔
یوکرین کی ممکنہ شرکت سے متعلق رپورٹس پر بات کرتے ہوئے انہوں نے واضح کیا کہ یوکرینی فوجی اس مشق میں شریک اتحادی ری ایکشن فورس کا حصہ نہیں تھے، جس میں بنیادی طور پر ترک، اطالوی اور ہسپانوی یونٹس شامل ہیں۔
تاہم یوکرینی اہلکاروں کو علیحدہ طور پر مدعو کیا گیا تاکہ وہ میدانِ جنگ کے اپنے تجربات، خاص طور پر ڈرون جنگ اور انسدادِ ڈرون آپریشنز سے متعلق اسباق، شیئر کر سکیں۔انہوں نے کہاکہ“وہ خود مشق کا حصہ نہیں ہیں، لیکن انہیں جدید جنگ سے متعلق اپنے عملی تجربات پیش کرنے کے لیے مدعو کیا گیا ہے۔”
اس آپریشن میں ترکیہ، فرانس، پولینڈ، جرمنی، نیدرلینڈز اور اسپین کے 15 بحری جہاز اور 2,600 اہلکار شریک ہوئے۔
ترکیہ 18 فروری 1952 کو نیٹو میں شامل ہوا تھا، جبکہ اتحاد کی بنیاد 1949 میں رکھی گئی تھی۔ گزشتہ 74 برسوں کے دوران اپنی اسٹریٹجک جغرافیائی حیثیت کی بدولت ترکیہ نے نیٹو میں اہم کردار ادا کیا ہے اور دہشت گردی سمیت مختلف خطرات کے خلاف صفِ اول کے اتحادی کے طور پر کام کیا ہے۔
32 اتحادی ممالک میں ترکیہ نیٹو کے بجٹ میں حصہ ڈالنے کے لحاظ سے ساتویں نمبر پر ہے۔ رواں سال اس کی مجموعی شراکت تقریباً 300 ملین یورو متوقع ہے، جو 2030 تک بڑھ کر 620 ملین یورو تک پہنچنے کی توقع ہے۔
