وزیراعظم شہبازشریف کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کا ہنگامی اجلاس ختم ہوگیا جس میں اعلیٰ عسکری قیادت، وزرا اور دیگر اہم شخصیات شریک ہوئیں۔
قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کے بلااشتعال، بزدلانہ اور غیرقانونی جنگی اقدام سے پیدا ہونے والی سنگین صورتحال پر غور کیا۔
قومی سلامتی کمیٹی نے بھارت کے حملوں میں شہید ہونے والے معصوم شہریوں کے لیے فاتحہ خوانی کی، شہداء کے لواحقین سے دلی ہمدردی کا اظہار کیا اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔

قومی سلامتی کمیٹی کے اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ 6 اور 7 مئی کی شب بھارتی مسلح افواج نے پاکستان کی خودمختار سرزمین پر مربوط میزائل، فضائی اور ڈرون حملے کیے، جن میں پنجاب کے علاقوں سیالکوٹ، شکرگڑھ، مریدکے اور بہاولپور کے علاوہ آزاد جموں و کشمیر کے علاقے کوٹلی اور مظفرآباد شامل تھے۔
اعلامیے کے مطابق یہ حملے بلااشتعال اور بلاجواز تھے اور دانستہ طور پر شہری علاقوں کو نشانہ بنایا گیا، جنہیں بھارت نے نام نہاد دہشت گرد کیمپس کی موجودگی کا جھوٹا بہانہ بنا کر نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں معصوم مرد، خواتین اور بچے شہید ہوئے اور شہری انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا، جن میں مساجد بھی شامل تھیں۔
