پاکستان میں رونق لگ گئی ہے، اسلام آباد اپنے نام کی طرح امن و سلامتی عطا کرنے والا شہر بن رہا ہے۔ کل رات جب ایرانی مہمان شہید بچوں کے نام سے منسوب ۔مناب 168 میں پاکستان پہنچے تو استقبال کے لئے ہمارے اصحاب ثلاثہ موجود تھے۔ پینٹ کوٹ میں شہباز شریف، اسحاق ڈار اور کمانڈو وردی میں ملبوس فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ۔ کسی کے ذہن میں اس ڈریس کوڈ بارے کوئی سوال نہیں اٹھا۔ ہم نے دیکھا ریڈ کارپٹ پر مہمان خاص کے ساتھ بغلگیر ہوتے ہوئے فیلڈ مارشل کے ہاتھ میں چمکتا ہوا مولا بخش نظر آ رہا ہے۔ واہ
اگلے دن صبح جب امریکی نائب صدر پاکستان پہنچے تو ان کے ہم منصب اسحاق ڈار، محسن نقوی اور فیلڈ مارشل ۔۔۔ سب پینٹ کوٹ میں ملبوس ۔۔۔


ہمارے دانشور چونک کر اک دوجے سے پوچھنے لگے، "کل وردی مع مولا بخش اور آج ٹو پیس، چکر کیا ہے؟” عسکری روایات اور عالمی سیاست پر نظر رکھنے والے ایک دوست کہنے لگے، "چکر وکر کوئی نہیں، شہادتوں کے پس منظر میں ایرانی وفد کو ہائی سکیورٹی کی ضرورت تھی تاکہ کوئی شرارت کی کوشش بھی نہ کرے۔ پاک فضائیہ نے مہمانوں کو پوری حفاظت سے منزل تک پہنچایا۔ اسی لئے فیلڈ مارشل عاصم منیر فوجی لباس میں ملبوس تھے یعنی یہ جنگ کے لیئے تیار رہنے کا سگنل تھا۔ جبکہ جے ڈی وینس کو کسی سے خطرہ نہیں تھا اس لیئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شاہ دیگر کے ہمراہ سول لباس میں ان کے استقبال کرنے ایئرپورٹ پہنچے۔
بات تو آسانی سے سمجھ آ گئی لیکن کچھ لوگ مولا بخش بارے ابھی تک متجسس ہیں۔ پاکستان میں مولا بخش سکول لائف کا سب سے خوفناک کردار ہوا کرتا تھا۔ماسٹر کے پاس پڑا ہوا ڈنڈا امن کی علامت تھی، کبھی کبھی اس کا استعمال اور عموما رعب ہی کافی ہوتا تھا۔ ہماری ملاکا اسٹک اسی مولابخش کا سفارتی عسکری ورژن ہے۔ پاکستان کے آرمی چیف کی تعیناتی کے موقع پر سبکدوش ہونے والا چیف اپنی ملاکا اسٹک جب نئے چیف کے حوالے کرتا ہے تو پہنچنے والی جگہ پر پیغام پہنچ جاتا ہے۔ سفارتکاری میں یہ اسٹک کہاں استعمال کرنی ہے، ہماری اسٹیبلشمنٹ اور ڈپلومیٹس خوب جانتے ہیں۔ اسی لئے مولا بخش باڈی لینگویج کا حصہ سمجھا جاتا ہے۔
چلتے چلتے کچھ خوبصورت سفارتی مہارتوں کے استعمال کا تذکرہ ہو جائے۔ ہمارے سفراء اور کریئر ڈپلومیٹس بدن بولی کی اہمیت اور لباس و لوازمات کے انتخاب کا معاملہ خوب جانتے ہیں۔
گزشتہ سال 25 اپریل کو لندن میں پاکستان ہائی کمشن کی عمارت پر بھارتی ایجنٹوں نے چڑھائی کی تو ہمارے سفارتکار بالکونی میں چائے کے کپ پکڑے بھلے لگے، کیونکہ ایک بڑے پوسٹر پر ابھینندن اعلان کر رہا تھا The Tea is Fantastic … اسی دوران ایک سمارٹ سفارتکار نے پانی کی بوتل سے گندے اشارے کرنے والے ایک انڈین کو گردن کی طرف ہاتھ کر کے نا جانے کیا اشارہ کیا کہ نیچے کہرام مچ گیا اور بھارتی ہجوم گڑبڑا گیا۔
برطانیہ میں پاکستان ہائی کمشن ڈاکٹر محمد فیصل اور وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ نے سکائی نیوز کی افغان نژاد متعصب یلدا حکیم کے نامناسب سوالات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ، دلیل اور تحمل سے ہینڈل کیا۔ اسی طرح پیرس میں پاکستانی سفیر ممتاز زہرہ بلوچ نے France 24 کے ساتھ پروگرام میں امن، انسانیت اور پاکستان کی بڑی اعلیٰ وکالت کی۔ اینکر فرانسس پیکرڈ Francois Picard سفیر پاکستان کے جوابات پر لاجواب ہو کر مسکراتی رہی۔ 🫡
ہماری فضائیہ، بری و بحری افواج کی کاروائی اپنی جگہ، مارخور کی خاموش کارکردگی اپنی جگہ، سفارتکاروں کا کام اپنی جگہ لیکن فیلڈ مارشل سید عاصم منیر شاہ کے اس مولا بخش کے کیا کہنے 👌
