یورپین یونین کے وزرائے خارجہ کا اہم اجلاس برسلز میں جاری ہے جس میں یورپی بلاک ترکی پر پابندیاں لگانے میں تذبذب کا شکار ہیں۔
کئی یورپی ممالک کا کہنا ہے کہ ترکی میں غیر جمہوری فیصلے کئے جا رہے ہیں جو یورپین یونین کے لئے تشویش کا باعث ہیں۔
یورپین یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں یونین کے خارجہ امور کے سربراہ جوزف بوریل نے اپنی رپورٹ پیش کر دی ہے۔ جرمن وزیر خارجہ ہیکو ماس نے کہا ہے کہ ترکی میں کچھ اچھی اور کچھ بری پالیسیاں بن گئی ہیں جو تشویش کا باعث ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ کُردوں کی حمایتی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی (ایچ ڈی پی) پر پابندی کے لئے عدالت میں پٹیشن ایک تشویشناک عمل ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ایردوان نے خواتین حقوق کے "استنبول کنونشن” سے دستبرداری کا اعلان کر دیا ہے جس پر یورپین یونین کو تحفظات ہیں۔
وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد یورپین یونین کا سربراہ اجلاس ہو گا جس میں وزرائے خارجہ کی پیش کی ہوئی رپورٹ پر فیصلہ کیا جائے گا کہ ترکی پر سخت پابندیاں عائد کی جائیں یا فی الحال معاملے کو ملتوی کیا جائے۔
واضح رہے کہ امریکہ اور یورپین یونین صدر ایردوان کے بیشتر فیصلوں پر خوش نہیں ہیں۔ روس کے S-400 ایئر ڈیفنس سسٹم کی خریداری سے یورپی بلاک اور امریکہ پہلے ہی ترکی کو اپنی تشویش سے آگاہ کر دیا ہے۔
امریکہ اور یورپین یونین ایک طرف ترکی کو پابندیوں کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن دوسری طرف ان کا کہنا ہے کہ ترکی ایک بااعتماد اتحادی ہے۔ اس وقت یورپین یونین میں ترکی کے خلاف کئی ممالک پابندیوں مطالبہ کر رہے ہیں جن میں یونان پیش پیش ہے۔ ترکی اور یونان کے درمیان مشرقی بحیرہ روم کی سمندری حدود کا تنازعہ بدستور موجود ہے۔
