مولانا رومی جنہیں مولانا جلال الدین رومی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے
13 ویں صدی کے فارسی شاعر ، اسلامی اسکالر، عالم دین اور صوفی تھے
انکی شاعری اور تعلیمات نے دنیا بھر کے لوگوں پر گہرا اثر چھوڑا ہے
آئیے مولانا رومی کی زندگی، انکے کاموں اور ان کے اثرو رسوخ پر ایک ہلکی سی نظر ڈالتے ہیں ترکیہ اردو کی خصوصی رپورٹ میں
مولانا رومی:
مولانا جلال الدین رومی 1207 میں افغانستان کے شہر بلخ میں پیدا ہوئے،مولانا بعد میں ترکیہ کے شہر قونیہ چلے گئے جہاں انہوں نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ گزارا
مولا جلال الدین ایک عالم تھے مگر درویش شمس تبریزی سے انکی ملاقات نے انہیں صوفی اور شاعر میں تبدیل کر دیا
مولانا کا کام:
مولانا رومی کی سب سے مشہور تصنیف مثنوی معنوی ہے۔
یہ چھ جلدوں پر مشتمل ایک نظم ہے جو روحانی زندگی کے مختلف پہلووں کا احاطہ کرتی ہے
مولانا رومی کی کچھ اور تحریریں جیسے "دیوان کبیر” اور ” دیوان شمس تبریزی” انکی شاعری کے بہترین مجموعات ہیں جو خدا سے انکی گہری محبت کی عجکاسی کرتے ہیں
تعلیمات اور فلسفہ:
مولانا رومی کی تعلیمات محبت، اتحاد اور رب کے ساتھ ربط قائم کرنے پر زور دیتی ہیں۔
رومی نے ہی میلوی آرڈی کی بنیاد رکھی جسے سماع کے نام سے جانا جاتا ہے، یہ درویشوں کا صوفیانہ رقص ہے جو خدا کی جانب صوفیانہ سفر کی علامت ہے
اثرو رسوخ:
مولانا رومی کی شاعری کا متعدد زبانوں میں ترجمہ ہو چکا ہے اور انکا کام عالمی سطح پر لوگوں کو متاثر کر رہا ہے، مولانا رومی کو بڑے شعرا اور روحانی اساتذہ میں شمار کیا جاتا ہے۔
اقتباسات:
مولانا رومی کے اقتباسات جیسے
"The wound is the place where the light enters you.”
"Don’t be satisfied with stories, how things have gone with others. Unfold your own myth.”
کو آج بھی اپنی تحریروں کا حصہ بنایا جاتا ہے
رومی کی شاعری کو موسیقی، رقص، اور بصری فنون سمیت مختلف آرٹ کی شکلوں میں استعمال کیا جاتا ہے
مولانا جلال الدین رومی کا مقبرہ ترکیہ کے شہر قونیہ میں ہے جہاں دنیا بھر سے لوگ زیارت کے لیے جاتے ہیں۔
پاکستان کے قومی شاعر علامہ محمد اقبال بھی مولانا جلال الدین رومی سے بہت عقیدت رکھتے تھے، اور خود کو مولانا رومی کا مریدِ ہندی قرار دیتے تھے۔
علامہ اقبال کی علامتی قبر بھی مولانا رومی کے مزار کے قدموں میں موجود ہے
