turky-urdu-logo

ترکیہ میں وکلاء کی تعداد میں نمایاں اضافہ،عدالتی خدمات کا دائرہ وسیع

ترکیہ میں گزشتہ چند برسوں کے دوران وکلاء کی تعداد میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے، جہاں سن 2020 کے بعد سے رجسٹرڈ وکلاء کی تعداد میں چالیس فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جو ملک میں قانونی شعبے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ترکیہ میں رجسٹرڈ وکلاء کی مجموعی تعداد 2020 کے اختتام پر ایک لاکھ تینتالیس ہزار تین سو تیس تھی، جو دسمبر 2025 تک بڑھ کر دو لاکھ چھ ہزار چھ سو اٹھہتر ہو گئی۔ اس طرح پانچ سال کے عرصے میں تریسٹھ ہزار تین سو اڑتالیس نئے وکلاء اس شعبے میں شامل ہوئے، جو تقریباً چوالیس فیصد اضافہ بنتا ہے۔ مجموعی وکلاء میں سے اکاون اعشاریہ چھ فیصد مرد جبکہ اڑتالیس اعشاریہ چار فیصد خواتین شامل ہیں۔

ہر سال 5 اپریل کو ترکیہ میں یومِ وکلاء منایا جاتا ہے، جس کا مقصد عدالتی نظام میں وکلاء کے کردار کو خراجِ تحسین پیش کرنا اور انصاف، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے حقوق کے تحفظ میں ان کی خدمات کو سراہنا ہے۔ قانونِ وکالت کے مطابق وکلاء عدالتی نظام کا بنیادی ستون تصور کیے جاتے ہیں، جو قانونی تنازعات کے منصفانہ حل اور قانون کے درست نفاذ میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق ترکیہ کے تقریباً نصف رجسٹرڈ وکلاء استنبول اور انقرہ کی بار ایسوسی ایشنز سے وابستہ ہیں۔ استنبول میں مجموعی طور پر اکہتر ہزار چار سو بیالیس وکلاء رجسٹرڈ ہیں، جن میں سے زیادہ تر استنبول بار ایسوسی ایشن کے ساتھ وابستہ ہیں۔ اسی طرح انقرہ میں انتیس ہزار دو سو چوراسی وکلاء رجسٹرڈ ہیں، جبکہ ازمیر، انطالیہ، بورصہ، آدانا، قونیہ، مرسین، دیاربکر اور طرابزون بھی اہم قانونی مراکز میں شمار ہوتے ہیں۔

انقرہ سیکنڈ بار ایسوسی ایشن کے صدر گوکھان آغدمیر نے یومِ وکلاء کے موقع پر گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ جدید ٹیکنالوجی کے استعمال سے وکلاء کے کام کو آسان بنانے کے لیے مختلف منصوبے متعارف کرائے گئے ہیں۔ ان میں اے سی ای پی نامی ایک اہم منصوبہ شامل ہے، جس کے ذریعے وکلاء کو حراست میں موجود افراد سے محفوظ ویڈیو رابطہ قائم کرنے کی سہولت فراہم کی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ وزارتِ انصاف اور متعلقہ اداروں کے تعاون سے مکمل کیا گیا ہے، جس کے ابتدائی تجربات کامیابی سے مکمل ہو چکے ہیں اور اب یہ نظام ملک بھر کے وکلاء کے لیے قابلِ استعمال ہے۔

آغدمیر نے اس موقع پر تربیتی وکلاء کو درپیش مسائل کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ انہیں مکمل وکیل یا طالب علم کی حیثیت حاصل نہ ہونے کے باعث تنخواہوں اور دفاتر سے متعلق مختلف مشکلات کا سامنا ہے۔ ان مسائل کو حکومتی سطح پر متعلقہ حکام تک پہنچایا گیا ہے تاکہ ان کے حل کے لیے اقدامات کیے جا سکیں۔ماہرین کے مطابق وکلاء کی بڑھتی ہوئی تعداد نہ صرف عدالتی نظام کی وسعت کو ظاہر کرتی ہے بلکہ ملک میں قانونی خدمات کی بڑھتی ہوئی ضرورت اور انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے کی کوششوں کا بھی عکاس ہے۔

Read Previous

امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں ایرانی انٹیلی جنس سربراہ ہلاک، خطے میں کشیدگی میں اضافہ

Read Next

ہالی ووڈ کی کہانیاں یا حقیقت؟کائنات میں زندگی کے امکانات پر نئی بحث، یو ایف او فائلز فیصلہ کن ثابت ہو سکتی ہیں

Leave a Reply