کنٹرول لائن کے دونوں اطراف ، پاکستان اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آ ج یوم سیاہ منارہے ہیں جس کا مقصد نریندر مودی کی فسطائی حکومت کی طرف سے 2019میں آج کے روز کیے جانے والے غیر قانونی اقدامات کےخلاف احتجاج ریکارڈ کرانا ہے۔
کشمیر میڈیاسروس کے مطابق مودی حکومت نے اقوام متحدہ کی قراردادوں اور عالمی قوانین کی سنگین خلاف ورزی کرتے ہوئے 5اگست2019کو بھارتی آئین کی دفعات 370اور 35اے منسوخ کر کے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں وکشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کردی تھی اور پورے علاقے کا فوجی محاصرہ کر لیا تھا۔
آج غیر قانونی زیر تسلط علاقے میں مکمل ہڑتال ہے جس کی کال کل جماعتی حریت کانفرنس نے دے رکھی ہے۔ کل جماعتی حریت کانفرنس نے دس روز مزاحمتی کلینڈر جاری کیا ہے جس کے آغاز پر آج شام 8 تا ساڑھے آٹھ بجے غیر قانونی زیر تسلط علاقے میں مکمل بلیک آئوٹ کیا جائے گا۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے آج سرینگر میں لالچوک کی طرف مارچ کی بھی کال دے رکھی ہے جبکہ غیر قانونی زیر تسلط علاقے کے اطراف و اکناف میں کالے جھنڈے لہرائیں جائیں گے۔
کل جماعتی حریت کانفرنس نے سرینگر میں جاری ایک بیان میں کہا ہے کہ کشمیر کے بہادر لوگوں کی تحریک آزادی کے ساتھ غیر متزلزل وابستگی نے بھارت کے مذموم منصوبے خاک میں ملا دیے ہیں۔قابض انتظامیہ نے لال چوک کی طرف مارچ کو رکونے کوروکنے کیلئے سرینگر اور دیگر علاقوں میں پابندیاں مزید سخت کر دی ہیں ۔
سرینگر کے علاقوں لال چوک ، جہانگیر چوک ، ہری سنگھ ہائی سٹریٹ، ریگل چوک ، ٹی آر سی چوک ، پولو ویواور دیگر علاقومیں بھارتی فورسز کی بھاری نفری تعینات کی گئی ہے۔ شہر کی اہم سڑکوں پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی ہیں اور راستے خار دار تاروں کے ذریعے بند کیے گئے ہیں۔
دریں اثنا ذرائع ابلاغ کی اطلاعات کے مطابق قابض بھارتی فورسز اہلکار سرینگر ، اسلام آباد اور دیگر شہروں میں دکان داروں کو زبر دستی دکانیں کھولنے پر مجبور کر رہے ہیں۔
