اردن کے بادشاہ شاہ عبداللہ دوم نے جمعے کے روز ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کو مملکتِ اردن کا اعلیٰ ترین سول اعزاز ’’آرڈر آف حسین بن علی‘‘ عطا کیا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے میں ترکیہ کے کردار کو نہایت اہم قرار دیا۔
اعزاز دینے کی تقریب استنبول کے دولما باہچے ورکنگ آفس میں منعقد ہوئی، جو دونوں رہنماؤں کے درمیان دوطرفہ اور وفود کی سطح پر ہونے والے مذاکرات کے بعد ہوئی۔ ملاقات میں تجارت، صنعت، تعلیم، ٹرانسپورٹ، دفاع اور علاقائی امور سمیت مختلف شعبوں میں تعاون کے فروغ پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے شاہ عبداللہ دوم نے کہا کہ یہ اعزاز دونوں ممالک اور عوام کے درمیان گہرے دوستانہ اور برادرانہ تعلقات کی علامت ہے اور گزشتہ تقریباً 80 برسوں پر محیط شراکت داری کا اعتراف بھی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترکیہ اور اردن کے تعلقات میں مزید وسعت کی بھرپور گنجائش موجود ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کم کرنے، ممالک کی خودمختاری کے تحفظ اور امن کے قیام میں نہایت اہم کردار ادا کر رہا ہے، اور دونوں ممالک مشرق وسطیٰ میں استحکام کے لیے قریبی رابطہ اور ہم آہنگی جاری رکھیں گے۔
صدر رجب طیب ایردوان نے اعزاز ملنے پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمغہ دونوں ممالک کے تاریخی تعلقات اور عوامی رشتوں کا عملی اظہار ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ اعزاز ترکیہ اور اردن کے درمیان دیرینہ بھائی چارے اور دوستی کو مزید مضبوط کرے گا۔
صدر ایردوان نے کہا کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں انتہائی مفید رہیں اور تجارت، صنعت، تعلیم، نقل و حمل اور دفاع سمیت مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو آگے بڑھانے کے حوالے سے اہم فیصلے کیے گئے۔
علاقائی امور پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ایردوان نے کہا کہ وہ اردن کے ساتھ خطے میں امن، سلامتی اور استحکام کے قیام کے لیے مکمل ہم آہنگی رکھتے ہیں۔ انہوں نے مشرقی بیت المقدس میں مقدس مقامات کی نگہداشت کے حوالے سے اردن کے کردار کو سراہا اور اس کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے آئندہ آنے والے ماہِ رمضان کے موقع پر ایک دوسرے کو مبارکباد دی۔ شاہ عبداللہ دوم نے رمضان کی برکتوں کے لیے نیک تمناؤں کا اظہار کیا، جبکہ صدر ایردوان نے دعا کی کہ یہ مقدس مہینہ دونوں ممالک اور پوری اسلامی دنیا کے لیے رحمت، امن اور خوشحالی کا ذریعہ بنے۔
اعزاز کی تقریب کے بعد دونوں رہنماؤں نے سرکاری عشائیے میں شرکت کی، جس کے بعد ملاقات اختتام پذیر ہوئی۔
