turky-urdu-logo

جموں و کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ نہیں ، اقوام متحدہ کی طرف سے تسلیم شدہ متنازعہ علاقہ ہے، پاکستان

پاکستان نے بھارت کے غیر قانونی زیر تسلط جموں کشمیر کو اٹوٹ انگ کہنے کے بھارتی دعویٰ کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ بھارت کے ساتھ بات چیت اس وقت نتیجہ خیز ہو گی جب بھارت تقریباً 2 سال سے متنازعہ علاقہ کی خصوصی حیثیت ختم کرنے کے غیرقانونی اقدام کو واپس لے گا۔

اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب منیر اکرم نے گزشتہ روز اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اپنے بھارتی مندوب ٹی ایس تیرومورتی کے اس دعوی کا جواب دیا جس میں انہوں نے کہا کہ کشمیر بھارت کا اٹوٹ انگ اور ناقابل انتقال حصہ ہے اور ان کی حکومت 1972 کے شملہ معاہدے کے تحت کسی بھی مسئلے پر بات کرنے اور انہیں دوطرفہ اور پرامن طریقے سے حل کرنے کے لیے تیار ہے۔

جس کے جواب میں پاکستان کے مندوب منیر اکرم نے کہا کہ جموں و کشمیر اقوام متحدہ کا تسلیم کردہ متنازعہ علاقہ ہے نہ کہ یہ بھارت کا اٹوٹ انگ ہے۔ بھارتی مندوب نے یہ بیان پریس بریفنگ کے دوران ایک سوال کے جواب میں دیا۔

وہ اس پریس بریفنگ میں سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے اگست کے لیے کام کے پروگرام کا خاکہ پیش کر رہے تھے۔پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ رائے شماری کے لیے سلامتی کونسل کی قراردادیں موثر ہیں اور صرف اسی ادارے کے ذریعہ منسوخ کی جا سکتی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کا مقبوضہ کشمیر کے الحاق کے لیے 5 اگست 2019 کا یکطرفہ اور غیر قانونی اقدام سلامتی کونسل کی 2 قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور اس لئے یہ غیرموثر اور کالعدم ہے۔ پریس بریفنگ میں بھارتی مندوب نے اس اقدام کا جواز پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ بھارتی پارلیمنٹ کا استحقاق ہے۔

پاکستانی مندوب منیر اکرم نے کہا کہ بھارت کے غیرقانونی زیرتسلط جموں کشمیر میں شروع کی گئی ڈیموگرافک تبدیلیوں کو منسوخ کرنے، وہاں ظلم اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے اور 5 اگست 2019 اور اس کے بعد کیے گئے تمام یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات کی واپسی تک بھارت کے ساتھ مذاکرات نتیجہ خیز نہیں ہوں گے ۔

Read Previous

پاک بحریہ ، میری ٹائم سکیورٹی ایجنسی نے مشترکہ آپریشن میں تجارتی جہاز کے عملے کو بچا لیا

Read Next

ترک ایئر فورس کے لیے مزید ڈرونز

Leave a Reply