استنبول میں خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے کے لیے جدید ٹیکنالوجی کا مؤثر استعمال جاری ہے، جہاں ویمنز ایمرجنسی سپورٹ ایپلیکیشن "کادس” کے ذریعے پولیس نے گزشتہ سال ہزاروں ہنگامی اطلاعات پر چند منٹوں میں کارروائی کی۔
استنبول پولیس کے مطابق سال 2025 کے دوران "کادس” ایپ کے ذریعے موصول ہونے والی تین لاکھ چورانوے ہزار چار سو چھیاسی شکایات پر پولیس ٹیمیں اوسطاً پانچ منٹ کے اندر موقع پر پہنچنے میں کامیاب رہیں۔ اس ایپ کو گھریلو تشدد اور خواتین کے خلاف خطرات کے واقعات میں فوری مدد فراہم کرنے کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
یہ ایپلیکیشن ترکیہ کے محکمہ پولیس کی جانب سے 2018 میں متعارف کرائی گئی تھی، جس کا مقصد خواتین کو ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر سکیورٹی اداروں سے رابطہ کرنے کی سہولت فراہم کرنا ہے۔ ایپ کے ذریعے موصول ہونے والی اطلاع فوری طور پر قریبی پولیس ٹیم کو بھیج دی جاتی ہے، جو بروقت کارروائی کے لیے جائے وقوعہ پر روانہ ہو جاتی ہے۔
استنبول پولیس کے شعبہ انسداد گھریلو تشدد سے وابستہ افسران کے مطابق یہ ایپ صرف خواتین کے لیے دستیاب ہے اور اسے مفت ڈاؤن لوڈ کیا جا سکتا ہے۔ ہنگامی صورتحال میں جب کوئی خاتون خطرے میں ہو یا کسی دوسرے فرد کو تشدد کا سامنا ہو رہا ہو، تو ایپ کے بٹن کو دبانے سے فوری طور پر قریبی پولیس ٹیم کو الرٹ موصول ہو جاتا ہے۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ اس ایپ کا مقصد نہ صرف متاثرہ خواتین کو تحفظ فراہم کرنا ہے بلکہ ایسی خواتین کو بھی مدد کا موقع دینا ہے جو کسی واقعے کی عینی شاہد ہوں۔ مثال کے طور پر اگر کسی خاتون کو کسی عوامی مقام پر تشدد کا واقعہ نظر آئے، تو وہ اپنی ایپ کے ذریعے اطلاع دے سکتی ہے تاکہ پولیس بروقت کارروائی کر سکے۔
پولیس کے مطابق کادس کے ذریعے موصول ہونے والی اطلاعات کو ترجیحی بنیادوں پر دیکھا جاتا ہے۔ ایک حالیہ واقعے میں ایک خاتون نے خود کو خطرے میں محسوس کرتے ہوئے ایپ کے ذریعے اطلاع دی، جس کے بعد پولیس فوری طور پر موقع پر پہنچی اور مشتبہ شخص کے خلاف قانونی کارروائی شروع کی گئی۔
یہ ایپ خواتین اور بچوں کو تشدد یا فوری خطرے کی صورت میں مدد فراہم کرنے کے لیے وزارت داخلہ اور جنرل ڈائریکٹوریٹ آف سکیورٹی کی جانب سے تیار کی گئی ایک سرکاری حفاظتی پلیٹ فارم ہے۔ اس کے ذریعے صارفین صرف ایک بٹن دبانے سے اپنی موجودہ لوکیشن پولیس کو بھیج سکتے ہیں، جس سے امدادی کارروائی میں تیزی آتی ہے۔
کادس ایپ کو مختلف زبانوں میں تیار کیا گیا ہے تاکہ نہ صرف مقامی شہری بلکہ غیر ملکی افراد بھی اس سے فائدہ اٹھا سکیں۔ ماہرین کے مطابق ایسی جدید سہولیات خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانے اور معاشرے میں اعتماد کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
