turky-urdu-logo

استنبول میں کم عمر افراد کے جرائم میں اضافے پر تشویش، منظم گروہ بچوں کو نشانہ بنانے لگے

ترکیہ کے شہر استنبول میں کم عمر بچوں کے جرائم میں ملوث ہونے کا رجحان تیزی سے بڑھ رہا ہے، جس پر قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پراسیکیوٹرز نے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ استنبول کے چیف پبلک پراسیکیوٹر کے دفاتر کی جانب سے تیار کردہ فردِ جرم میں انکشاف ہوا ہے کہ منظم جرائم پیشہ گروہ بچوں کو باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت اپنے نیٹ ورک میں شامل کر رہے ہیں۔

ترک خبر رساں ادارے کی تحقیقاتی رپورٹ کے مطابق نئی نسل کے جرائم پیشہ گروہ، جنہیں “ڈالٹنز”، “کاسپرلرز” اور “ریڈکٹس” جیسے نام دیے گئے ہیں، سوشل میڈیا اور جدید ٹیکنالوجی کا استعمال کرتے ہوئے کم عمر بچوں کو جرائم کی دنیا میں لا رہے ہیں۔ یہ گروہ خاص طور پر 15 سے 18 سال کے ایسے بچوں کو نشانہ بناتے ہیں جو خاندانی مسائل، غربت یا منشیات کے مسائل کا شکار ہوتے ہیں۔

تحقیقات کے مطابق یہ گروہ بچوں کو پیسے، تحفظ اور شناخت دینے کا لالچ دے کر انہیں جرائم میں شامل کرتے ہیں۔ کئی بچوں کو حملہ، چوری اور اسلحہ رکھنے جیسے جرائم کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ بعض گروہ استنبول کے مختلف علاقوں میں کرائے کے گھروں کو اپنے آپریشن مراکز کے طور پر استعمال کرتے ہیں جہاں بچوں کو اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر سہولیات فراہم کی جاتی ہیں۔

فردِ جرم میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض گروہ سوشل میڈیا اور آن لائن گیمز کے ذریعے نوجوانوں کو متاثر کرتے ہیں اور انہیں جرائم میں شامل ہونے پر رقم دینے کا وعدہ کرتے ہیں۔ تاہم اکثر بچوں کو وعدے کے مطابق مکمل رقم نہیں دی جاتی بلکہ انہیں گروہ کے زیر اثر رکھا جاتا ہے۔

پراسیکیوٹرز کا کہنا ہے کہ خاندانی مسائل، غربت اور نگرانی کی کمی بچوں کو جرائم کی طرف دھکیلنے کی بڑی وجوہات ہیں۔ گروہ ان بچوں کو تحفظ اور دوستی کا احساس دلا کر اپنے ساتھ وابستہ کر لیتے ہیں، جس کے بعد ان کے لیے جرائم کی دنیا سے نکلنا مشکل ہو جاتا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ ان جرائم پیشہ نیٹ ورکس کے خلاف کارروائیاں جاری ہیں اور ان کے رابطہ نظام کو توڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق اس مسئلے کے حل کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے ادارے کافی نہیں بلکہ خاندانی معاونت، تعلیم، ذہنی صحت کی سہولیات اور بحالی کے پروگرام بھی ضروری ہیں۔

استنبول کے پراسیکیوٹرز ان جرائم پیشہ گروہوں کے خلاف مقدمات تیار کر رہے ہیں جبکہ عوامی آگاہی مہم بھی شروع کی گئی ہے تاکہ معاشرے کو اس بڑھتے ہوئے خطرے سے آگاہ کیا جا سکے۔

Read Previous

صدر رجب طیب ایردوان کا تاریخی دورۂ سعودی عرب، خطے میں نئی سفارتی پیش رفت کی امیدیں

Read Next

.ترکیہ میں زلزلے کی بحالی کے سلسلے میں سوشل ہاؤسنگ قرعہ اندازی مکمل

Leave a Reply