تحریر: وحید مراد
یکم رمضان سے شروع ہونے والی اسرائیلی جارحیت اور وحشیانہ حملے چاند رات اور عید پر بھی جاری رہے۔ فلسطینیوں نے گولیوں کی گونج میں روزے رکھے اور فضائی حملوں میں سینکڑوں معصوم جانوں کی ہلاکت اور تباہی و بربادی دیکھتے ہوئے عید منائی۔ مسلم حکمرانوں کے اجلاس،ٹیلی فونک بات چیت اور زبانی مذمتی بیانات کا وقت ختم ہوچکا عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔ اسرائیلی حمایت کی امریکی بلی تھیلے سے باہر آگئی۔پہلے سلامتی کونسل کو اجلاس کا اعلامیہ جاری کرنے سے روکاپھر اجلاس ایک ہفتے تک موخر کرنے پر زور دیا۔ اس دوران وہائٹ ہائوس اسرائیلی کاروائیوں کو دفاع کے نام پر جائز قرار دیتے ہوئے کھلے عام حمایت کر رہا ہے۔
12 مئی بروز بدھ(چاند رات) غزہ کے رہائشیوں کے لئے مشکل ترین رات تھی۔اسرائیل کے فضائی حملوں میں حماس کے ایک سنئیر کمانڈر کی ہلاکت کے ساتھ غزہ میں کئی منزلہ عمارت کی تباہی کے بعد بے شمار ہلاکتیں ہوئیں۔اسکے جواب میں حماس نے اسرائیل پر راکٹ فائر کئے جن میں سے زیادہ تر کو ناکام بنا دیا گیا۔اسرائیل نے اب اپنے اہداف میں دفاتر، بینک اور حماس کی بحری تنصیبات کو بھی شامل کر لیا۔ جمعرات کی صبح جب فلسطینی عید کی نماز کی تیاریاں کر رہے تھے غزہ پر فضائی بمباری کے ذریعےشہر کے بیچ میں واقع ایک چھ منزلہ عمارت تباہ کر دی گئی۔ان واقعات میں 580 افراد زخمی ہوئے، ہزاروں لوگ بے گھر ہوئے۔ جمعرات کی رات تک ہلاک ہونے والوں کی تعداد 103 تھی جس میں 27 بچے شامل تھے۔
اسرائیلی بمباری جمعہ کے روز بھی جاری رہی اور اس صبح کو ہونے والے دھماکوں نے غزہ شہر کو ہلا کر رکھ دیا۔ غزہ پر اب تک ہونے والے حملوں میں کم از کم 126 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جس میں 31 بچے اور 19 خواتین بھی شامل ہیں زخمی ہونے والوں کی تعداد 830 بتائی جاتی ہے۔ اسرائیل کے ممکنہ زمینی حملے کے پیش نظر لوگ اپنے گھروں کو چھوڑرہے ہیں اور کئی خاندان سکولوں کی عمارتوں میں پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
7000 اسرائیلی انفنٹری اور بکتر بند فوجیوں نے غزہ کی سرحد پر پوزیشنز سنبھال لیں۔اسرائیلی فوج ممکنہ آپریشن کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے خبردار کر رہی ہے کہ زمینی آپریشن کسی وقت بھی شروع ہو سکتا ہے۔ اسرائیلی فوجی کے ترجمان لیفٹیننٹ کرنل جوناتھن کورنیکس کے مطابق غزہ کی پٹی پر حملے میں 160 جہاز، ٹینک اور آرٹلری حصہ لے رہی ہے۔اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے غزہ میں 600 سے زیادہ بار اپنے اہداف کو نشانہ بنایا ۔اسرائیل کا نشانہ اس وقت غزہ میں موجود نئی سرنگیں بھی ہیں جنھیں حماس کے لوگ استعمال کرتے ہیں۔ 2014 کے بعد سے ہونے والی یہ شدید ترین لڑائی ہے۔پیر سے شروع ہونے والی اس لڑائی میں کمی کا کوئی امکان دکھائی نہیں دیتا۔ اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو کا کہنا ہے کہ اس میں ’مزید وقت لگ سکتا ہے’۔
اسرائیل کے اندر بھی یہودی اور اسرائیلی عرب ایک دوسرے سے لڑ رہے ہیں مئی جمعرات کو اسرائیل کے وزیر دفاع بینی گنٹز نے سیکورٹی فورسز کو داخلی امن کنٹرول کرنے کا حکم دیا ۔ انہوں نے 400 سے زائد گرفتاریں کیں۔پولیس کے ترجمان مائیکی روزن فیلڈ نے کہا ہے کہ ملک کے مختلف شہروں میں جس قسم کا نسلی تشدد ہو رہا ہے یہ کئی دہاہیوں سے دیکھنے میں نہیں آیا ۔ جمعرات کو اسرائیل نے پرتشدد واقعات کی وجہ سے یروشلم، حیفا، تمارا اور لُد میں ایمرجنسی نافذ کر دی ۔اسرائیل کی آبادی میں 21 فیصد ایسے لوگ ہیں جو اسرائیلی عرب کہلاتے ہیں۔ انہوں نے 1948 کی جنگ میں ہجرت نہیں کی اور بعد ازاں انہیں اسرائیلی شہریت دے دی گئی تاہم انکا کہنا ہے کہ ان کے ساتھ دوسرے درجے کے شہریوں کا سلوک روا رکھا جاتا ہے اور انھیں قانونی، ادارہ جاتی اور سماجی تعصبات کا سامنا رہتا ہے۔ان اسرائیلی عربوں کی 80 فیصد تعداد مسلمان ہے۔
مسلم حکمرانوں کی بیان بازی اور اسرائیل کے خلاف مظاہرے :
ترک صدر طیب اردوان نے کہا کہ اسرائیل قانون، انصاف اور ضمیر سے ماورا ایک غیر قانونی ریاست ہے، کوشش کر رہے ہیں کہ عالمی برادری اسرائیل کوسبق سکھائے۔ ایرانی پارلیمان کے اسپیکر محمد باقر قالی باف نے پارلیمان کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مسجد اقصی کی توہین کو عالمی امن و سلامتی کے لیے خطرہ قرار دیتے ہوئے اسلامی ممالک، دیگر ممالک اور بین الاقوامی تنظیموں سے”صہیونی ریاست کے جرائم” کے خاتمے کے لیے فوری اقدامات اٹھانے کا مطالبہ کیا۔یوم قدس کے موقع پر آیت اللہ خامنہ ای نے اپنے خطاب میں ”جابر حکومت کے خلاف جنگ کو ظلم و زیادتی کے خلاف اور دہشت گردی کے خلاف جنگ” قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ اس حکومت کے خلاف جنگ کرنا ہر ایک شخص کی ذمہ داری ہے۔
سعودی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں عالمی برادری پر زور دیا گیا ہے کہ اسرائیل کو اس جارحیت کا ذمہ دار ٹھہرایا جائے۔ نیویارک میں اسلامی تعاون تنظیم کی ہنگامی میٹنگ میں سعودی عرب کے مندوب نے کہا کہ ان کا ملک بیت المقدس سے فلسطینی باشندوں کو طاقت کے ذریعے بے دخل کرنے کی اسرائیلی منصوبہ بندی کو یکسر مسترد کرتا ہے اور مشرقی بیت المقدس کو آزاد اور خود مختار فلسطینی ریاست کا دارالحکومت بنانے کی کوششوں میں فلسطینیوں کی حمایت کرے گا۔ وزیراعظم عمران خان نے فلسطینی صدر محمود عباس کو فون کرکے ہر ممکن تعاون کی یقین دہانی کرائی ۔ وزیراعظم نے فلسطینی صدر محمود عباس کو انسانی حقوق اور بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزیوں پر بین الاقوامی برادری کو متحرک کرنے میں پاکستان کی کوششوں کی یقین دہانی کرائی ۔ وزیراعظم عمران خان ، ترک صدر طیب اردوان اور شاہ سلمان نے اسرائیلی حملے رکوانے کےلئے اقوام متحدہ اور اوآئی سی میں ملکر کام کرنے پر اتفاق کیا ۔
فلسطین میں اسرائیلی جارحیت کے خلاف اقوام متحدہ میں او آئی سی کے مندوبین نے پاکستان کی قرارداد منظور کر لی ۔قرار داد میں مطالبہ کیا گیا کہ فلسطین میں انسانی جرائم پر اسرائیل کا احتساب کیا جائے ، عالمی برادری مسئلے کے حل کیلئے فوری اقدامات کرے ، قرارداد میں کہا گیا کہ مقبوضہ فلسطین میں سرحدی خلاف ورزیاں فورا بند کروائی جائیں۔ منظوری کے بعد قرارداد کا مسودہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو بھجوا دیا گیا۔
جمعہ کے روز دنیا کے کئی مسلم اکثریت والے ممالک میں فلسطینیوں کے حق میں مظاہرے ہوئے جن میں بنگلہ دیش، اردن، کوسوو، اور ترکی شامل ہیں۔تاہم یورپ میں اسرائیل کے خلاف ہونے والے مظاہروں پر پابندی لگا دی گئی۔ پیرس میں طے شدہ ایک احتجاجی مظاہرے پر یہ کہہ کر پابندی لگا دی گئی کہ اس سے پرتشدد جھڑپوں کا خطرہ ہے ۔جرمنی میں مظاہرین کی جانب سے اسرائیلی پرچم نذرِ آتش کیے جانے کے بعد چانسلر اینگلا مرکل کے ترجمان نے تنبیہہ کی ہے کہ یہودیوں سے نفرت پر مبنی مظاہروں کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔
اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل امریکہ کے سامنے بے بس:
عالمی طاقتوں کا خطے میں جنگ بندی کیلئے زبانی بیانات پر زور ہے لیکن عملی طورپر اسرائیل کی حمایت جاری ہے۔ امریکی صدر جو بائیڈن نے بدھ کو اسرائیلی وزیر اعظم نتن یاہو سے گفتگو کے بعد کہا ‘مجھے امید ہے کہ یہ معاملہ جلد از جلد ختم ہو جائے گا تاہم اسرائیل کو اپنا دفاع کرنے کا حق ہے۔’اگرچہ صدر بائیڈن نے یہ نہیں بتایا کہ وہ یہ بات کس بنا پر کہہ رہے ہیں لیکن اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر سے جاری ہونے والے ایک بیان میں بتایا گیا کہ نتن یاہو نے ان سے کہا تھا کہ اسرائیل ‘حماس اور غزہ میں متحرک تمام دہشت گرد تنظیموں پر حملے جاری رکھے گا۔’
امریکی کانگریس کے اراکین نے بھی اس تنازعے پر اپنے ردعمل کا اظہار کیا۔ فلسطینی نژاد امریکی کانگریس کی نمائندہ راشدہ طلیب نے اسرائیل کی ’غیر مشروط حمایت‘ پر امریکی حکومتی پالیسی پرسوال اٹھایا۔ ایوان نمائندگان میں خطاب کے دوران انھوں نے کہا کہ ’ہمیں بغیر کسی ہچکچاہٹ کے یہ مطالبہ کرنا چاہیے کہ ہمارا ملک اسرائیل کی غیر مشروط حمایت کو ترک کرے کیونکہ فلسطینیوں کی زندگی کا خاتمہ ہورہا ہے اوراسرائیل لاکھوں مہاجرین کے حقوق سے انکاری ہے ۔‘امریکی ریاست مینیسوٹا سے تعلق رکھنے والی رکن کانگریس الہان عمر نے بھی اسرائیل کی حمایت کرنے والے ارکان کانگریس پر تنقید کی۔انھوں نے کہا ’کانگریس کے بہت سے اراکین انسانیت اور انسانی حقوق کی پامالیوں کے خلاف جرائم کی مذمت کرنے کی بجائے عام شہریوں کے خلاف اسرائیل کے فضائی حملوں کا دفاع کر رہے ہیں۔
اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتیرس نے کہا تھا کہ انھیں غزہ میں جاری تشدد پر گہری تشویش ہے۔10 مئی بروز پیر کو اس صورتحال سے نمٹنے کے لیے سلامتی کونسل کا اجلا س بھی ہوا تھا لیکن امریکا نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو عوامی بیان جاری کرنےسے روک دیا تھا۔ امریکا کو اس بات پر تشویش ہے کہ کونسل کا بیان اس وقت معاملات کو سنگین بنا سکتا ہے جب واشنگٹن فریقین کے ساتھ بیک ڈور سفارت کاری میں مصروف ہے۔ سلامتی کونسل کا اجلاس دوبارہ جمعہ کے روز بلانے کی تجویز پیش کی گئی تھی لیکن امریکہ نے یہ اجلاس موخر کروادیا۔ امریکی وزیر خارجہ انتھونی بلنکن نے کہا کہ امریکہ چاہتا ہے کہ اجلاس ایک ہفتے کے بعد بلایا جائے اس سے سفارکاری کو مزیدموقع ملے گا ۔ اقوام متحدہ میں چین کے مستقل نمائندے ژانگ جون نے ٹویٹ کیا کہ یہ اجلاس اب اتوار کی صبح دس بجے ہوگا۔ چین کو مقبوضہ فلسطینی علاقے میں کشیدگی بڑھنے پر سخت تشویش ہے۔ اقوام متحدہ میں ناروے کے مشن نے ٹویٹ کیا کہ اتوار کے اجلاس کی تجویز ناروے، تیونس اور چین نے کی تھی۔
منگل کے روز وائٹ ہاؤس ہاؤس کی ترجمان جین ساکی نے کہا کہ اسرائیل کا یہ جائز حق ہے کہ وہ حماس کے راکٹ حملوں سے اپنا دفاع کرے امریکا اسرائیل کے حق دفاع کی حمایت کرتا ہے ۔انہوں نےحماس اور دوسرے گروہوں کے راکٹ حملوں کی مذمت بھی کی ۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی سلامتی کے حوالے سے جوبائیڈن کی طرف سے حمایت میں کمی نہیں ہوگی۔
