مسلمانوں کا قبلہ اول ایک بار پھر حملوں کی زد میں آگیا۔
اسرائیلی فوجیوں نے مسجد اقصی پر دھاوا بولتے ہوئے گرینیڈ پھینکے اور آنسو گیس فائر کی ، جس کے بعد وہاں موجود عبادت گزاروں سے جھڑپیں شروع ہوگئیں اور 152 نمازی زخمی ہوگئے۔
فلسطینی ہلال احمر ایمرجنسی سروس نے کہا کہ اس نے جمعہ کی صبح 67زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔
اوقاف نے بھی بتایا کہ جائے وقوعہ پر موجود ایک محافظ کو ربڑ کی گولی آنکھ میں لگی۔
فلسطینیوں کی جانب سے سوشل میڈیا پر شئیر کی گئی ویڈیوز میں دکھایا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے مسجد پر دھاوابول دیا جب نمازی صبح کی نماز کیلئے جمع تھے۔ رمضان کے دوران تشدد میں اضافے سے یروشلم میں تناو بڑھا ہے۔
گزشتہ برس بھی اسی طرز کی پر تشدد کاروائیاں کی گئیں جس کے بعد غزہ پر گیارہ روزہ حملے کا آغاز کردیا گیا جس میں 250سے زائد فلسطینی اور اسرائیل میں 13 افراد ہلاک ہوئے۔
اسرائیل نے 1967 کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران مشرقی یروشلم پر قبضہ کر لیا تھا ۔
