مشرقی بحیرہ روم: اسرائیل-یونان-قبرص محور اور ترکیہ کا تزویراتی جواب
مشرقی بحیرہ روم (Eastern Mediterranean) اس وقت عالمی سیاست، معیشت اور عسکری حکمت عملی کا ایک ایسا دہکتا ہوا مرکز بن چکا ہے، جہاں صدیوں پرانی دشمنیاں اور جدید دور کے معاشی مفادات ایک دوسرے کے سامنے صف آراء ہیں۔ اس خطے میں ابھرنے والا اسرائیل، یونان اور قبرص کا تزویراتی اتحاد، جیو پولیٹیکل بساط پر ہلچل مچانے والا ایک اہم واقعہ ہے۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد ترکیہ کا گھیراؤ کر کے اسے اپنے ساحلوں تک محدود کرنا اور خطے کے وسیع قدرتی وسائل سے محروم رکھنا ہے۔ آئیے اس پیچیدہ صورتحال، ترکیہ کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی کوششوں اور انقرہ کی جانب سے اختیار کی جانے والی جوابی حکمت عملی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
مشرقی بحیرہ روم کی اہمیت صدیوں سے تسلیم شدہ رہی ہے، لیکن اکیسویں صدی کے آغاز میں یہاں گیس کے وسیع ذخائر کی دریافت نے اس اہمیت کو ایک نئی جہت عطا کی ہے۔ اسرائیل کے ساحلوں کے قریب ‘لیویتھن’ (Leviathan) اور قبرص کے قریب ‘افروڈائٹ’ (Aphrodite) جیسے گیس فیلڈز کی دریافت نے علاقائی ممالک کے درمیان مسابقت کو جنم دیا ہے۔ ان ذخائر کی موجودگی نے یورپی یونین کو یہ امید دلائی کہ وہ روس پر اپنی توانائی کا انحصار کم کر سکتی ہے، تاہم اس عمل میں ترکیہ کو یکسر نظر انداز کر دیا گیا، جو جغرافیائی طور پر اس خطے کا سب سے اہم اور بڑا کھلاڑی ہے۔
اسرائیل، یونان اور قبرص نے اس موقع کو غنیمت جانا اور ایک ایسا مثلث تشکیل دیا جس کا مقصد ترکیہ کو نظر انداز کر کے خطے میں گیس کے ذخائر پر مکمل کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ اس مقصد کے لیے ان ممالک نے ایک عسکری اتحاد بھی تشکیل دیا تاکہ ترکیہ کی علاقائی طاقت کا مقابلہ کیا جا سکے۔ اس اتحاد کی بنیاد اس مشترکہ خوف پر رکھی گئی کہ صدر رجب طیب ایردوان کے دور میں ترکیہ اپنی عثمانی دور جیسی اثر پذیری دوبارہ حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ اس اتحاد نے بین الاقوامی سطح پر یہ تاثر دینے کی کوشش کی کہ ترکیہ ایک "جارح” ریاست ہے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہی ہے، جبکہ حقیقت میں ترکیہ اپنی طویل ترین ساحلی پٹی کے قانونی حقوق کا تحفظ کرنا چاہتا ہے۔
یونان اور قبرص کے ساتھ اس گٹھ جوڑ کو اسرائیل ترکیہ کے خلاف ایک "بفر زون” کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ حالیہ برسوں کی کشیدگی کے دوران تل ابیب نے ترکیہ کے روایتی حریفوں (یونان اور قبرص) کو اپنے ساتھ ملایا تاکہ انقرہ کا گھیراؤ کیا جا سکے۔
ترکیہ کے لیے اس اتحاد کا سب سے تشویشناک پہلو ان کا باہمی فوجی تعاون تھا۔ خصوصاً حالیہ برسوں میں اسرائیل اور یونان کے درمیان ہونے والی مشترکہ فضائی مشقوں نے انقرہ کے ایوانوں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔ اسرائیلی فضائیہ یونان کے پہاڑی علاقوں میں اپنی مشقیں اس لیے کرتی ہے کیونکہ یہ جغرافیہ ایران اور ترکیہ کے بعض علاقوں سے مشابہت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ، اسرائیل نے یونان کو جدید ترین دفاعی ٹیکنالوجی، ڈرونز اور انٹیلی جنس ڈیٹا کی فراہمی شروع کر دی ہے تاکہ یونانی بحریہ اور فضائیہ کو ترکیہ کے مقابلے میں برتری دلائی جا سکے۔ یہ محور اب ایک باقاعدہ دفاعی بلاک کی صورت اختیار کر چکا ہے، جسے امریکہ اور فرانس جیسے ممالک کی پشت پناہی بھی حاصل ہے۔
ترکیہ کے خلاف گھیراؤ کی کوششوں کا سب سے بڑا ثبوت "سیویل نقشہ” (Seville Map) ہے۔ یہ نقشہ اسپین کی یونیورسٹی آف سیویل نے تیار کیا تھا اور یونان اسے اپنی سمندری حدود کے حتمی حق کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس نقشے کے مطابق، یونان کے وہ چھوٹے چھوٹے جزیرے جو ترکیہ کے ساحلوں کے بالکل قریب واقع ہیں، ان کا اپنا مکمل ‘کانٹی نینٹل شیلف’ (Continental Shelf) تسلیم کیا گیا ہے۔ اگر اس نقشے کو عالمی سطح پر قبول کر لیا جائے تو ترکیہ، جس کی ساحلی پٹی بحیرہ روم میں سب سے طویل ہے، صرف اپنے ساحل سے چند کلومیٹر دور تک محدود ہو کر رہ جائے گا اور باقی تمام سمندر یونان اور قبرص کی ملکیت بن جائے گا۔
یہ ایک طرح کا معاشی اور جغرافیائی محاصرہ ہے جس کا مقصد ترکیہ کو اس کی اپنی سمندری حدود میں قیدی بنانا ہے۔ اس حکمت عملی کے تحت "ایسٹ میڈ گیس فورم” (EastMed Gas Forum) تشکیل دیا گیا، جس میں مصر، اسرائیل، اردن، اٹلی، یونان اور قبرص کو شامل کیا گیا لیکن ترکیہ کو دانستہ طور پر باہر رکھا گیا۔ اس فورم کا مقصد ایک ایسی پائپ لائن بچھانا تھا جو اسرائیل اور قبرص کی گیس کو ترکیہ کی سمندری حدود کے اوپر سے گزار کر یونان کے ذریعے یورپ پہنچائے۔ یہ منصوبہ تکنیکی طور پر انتہائی مشکل اور مہنگا ہونے کے باوجود صرف اس لیے زیرِ بحث رہا تاکہ ترکیہ کو توانائی کی اس عالمی دوڑ سے باہر دھکیلا جا سکے۔
دوسری جانب ترکیہ نے اس گھیراؤ کو توڑنے کے لیے محض احتجاج پر اکتفا نہیں کیا بلکہ ایک نئی اور جارحانہ ڈاکٹرائن متعارف کروائی جسے "ماوی وطن” یا "نیلا وطن” (Mavi Vatan) کہا جاتا ہے۔ اس نظریے کے خالق ترک ایڈمرلز کا کہنا ہے کہ ترکیہ کی قومی سلامتی صرف اس کی زمینی سرحدوں تک محدود نہیں بلکہ اس کے سمندر بھی اس کی سرحدیں ہیں۔ ترکیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ کسی بھی ایسے نقشے یا معاہدے کو تسلیم نہیں کرے گا جو اسے بحیرہ روم کے ایک کونے میں دھکیلنے کی کوشش کرے۔
اس حکمت عملی کے تحت ترکیہ نے اپنی بحری طاقت کو جدید خطوط پر استوار کیا۔ انقرہ نے محسوس کیا کہ اگر اسے اپنی سمندری حدود کا دفاع کرنا ہے تو اسے دوسرے ممالک سے بحری جہاز خریدنے کے بجائے اپنی مقامی صنعت پر بھروسہ کرنا ہوگا۔ ترکیہ کے "ملجم” (MILGEM) پراجیکٹ نے اسے جدید ترین جنگی جہاز فراہم کیے، جبکہ ڈرون ٹیکنالوجی میں ترکیہ کی عالمی برتری نے سمندری جنگ کا نقشہ ہی بدل دیا ہے۔ آج ترکیہ کے مسلح ڈرونز بحیرہ روم کے اوپر مستقل نگرانی کر رہے ہیں، جس نے اسرائیل اور یونان کے بحری عزائم کو شدید دباؤ میں ڈال رکھا ہے۔
اسرائیل اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے گھیراؤ کی کوششوں پر ترکیہ کا سب سے کامیاب وار لیبیا کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کے ساتھ کیا گیا سمندری حدود کا معاہدہ تھا۔ اس معاہدے نے جغرافیائی طور پر اسرائیل-یونان محور کے سینے میں خنجر گھونپ دیا۔ ترکیہ اور لیبیا نے ایک ایسی راہداری قائم کر لی جو بحیرہ روم کے وسط سے گزرتی ہے اور یونان و قبرص کے درمیان ایک رکاوٹ بن کر کھڑی ہو گئی ہے۔
اس معاہدے کے بعد قانونی طور پر "ایسٹ میڈ پائپ لائن” کا تصور ہی ختم ہو گیا، کیونکہ اب کوئی بھی پائپ لائن یا جہاز اس علاقے سے نہیں گزر سکتا جو ترکیہ اور لیبیا کی مشترکہ معاشی حدود (EEZ) قرار دی گئی ہے۔ یونان اور اسرائیل نے اس معاہدے کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دے کر مسترد کرنے کی کوشش کی، لیکن ترکیہ نے اسے اقوامِ متحدہ میں رجسٹر کروا کر اپنی پوزیشن مستحکم کر لی۔ لیبیا میں ترکیہ کی فوجی مداخلت نے نہ صرف وہاں کی حکومت کو بچایا بلکہ ترکیہ کے سمندری حقوق کو بھی ایک دفاعی ڈھال فراہم کی۔
2024 اور 2025 کے دوران ترکیہ نے اپنی حکمت عملی میں ایک اور اہم تبدیلی پیدا کی جسے "سفارتی جادوگری” کہا جا سکتا ہے۔ انقرہ نے محسوس کیا کہ محض فوجی طاقت کافی نہیں ہے، اس لیے اس نے اسرائیل-یونان محور کو تنہا کرنے کے لیے عرب ممالک کے ساتھ اپنے تعلقات بحال کرنا شروع کیے۔ مصر کے ساتھ سالہا سال کی کشیدگی کا خاتمہ اس سلسلے کی سب سے اہم کڑی تھی۔ مصر اس خطے کا ایک بڑا کھلاڑی ہے اور اس کا ترکیہ کی صف میں آنا یا کم از کم یونان کا ساتھ نہ دینا انقرہ کے لیے ایک بڑی فتح ہے۔
اسی طرح سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کی بہتری نے ترکیہ کو وہ مالی اور سیاسی استحکام فراہم کیا جس کی اسے اپنے بحری مشن کو جاری رکھنے کے لیے ضرورت تھی۔ دوسری جانب پاکستان کے ساتھ مل کر لیبیا کی مخالف قوت "خلیفہ حفتر” کو ایک بڑی دفاعی ڈیل کے ذریعے اسرائیلی کیمپ سے باہر لانے کی کوششیں بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ اگرچہ فلسطین کے مسئلے پر ترکیہ اور اسرائیل میں شدید اختلافات موجود ہیں، لیکن سمندری حدود اور گیس کی سیاست میں انقرہ نے اپنے پتے بہت ہوشیاری سے کھیلے ہیں۔
آج جنوری 2026 میں صورتحال یہ ہے کہ اسرائیل-یونان-قبرص محور اپنی تمام تر کوششوں کے باوجود ترکیہ کو دیوار سے لگانے میں ناکام رہا ہے۔ ترکیہ کے ڈرلنگ جہاز، جن کی حفاظت ترک بحریہ کے جدید جنگی بیڑے کر رہے ہیں، متنازعہ علاقوں میں اپنی موجودگی برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ یونان اس وقت شدید دباؤ میں ہے کیونکہ اسے احساس ہو گیا ہے کہ یورپی یونین کی محض زبانی حمایت ترکیہ کی عملی فوجی طاقت کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔
اس صورتحال نے اسرائیل کو بھی محتاط کر دیا ہے، کیونکہ وہ اس وقت ایران کے ساتھ ایک طویل اور تھکا دینے والی کشیدگی میں الجھا ہوا ہے اور وہ بحیرہ روم میں ترکیہ کے ساتھ ایک نیا محاذ کھولنے کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
فی الوقت ترکیہ نے خود کو مشرقی بحیرہ روم کے ایک ناگزیر کھلاڑی کے طور پر منوا لیا ہے۔ تاہم، مستقبل میں اس خطے کا امن اس بات پر منحصر ہے کہ آیا یونان اور اسرائیل ترکیہ کے جائز سمندری حقوق کو تسلیم کرتے ہیں یا وہ کسی ایسی مہم جوئی کی طرف بڑھتے ہیں جس کا نتیجہ پورے خطے کے لیے تباہ کن ہو سکتا ہے۔ ترکیہ نے واضح کر دیا ہے کہ وہ امن کا خواہاں ہے لیکن اپنی سمندری خود مختاری پر کوئی سمجھوتہ نہیں کرے گا۔
