صدر ایردوان نے اسرائیل پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ غزہ میں محصور علاقوں میں لوگوں کی بجلی، پانی اور خوراک تک رسائی کو روک کر "جنگی جرائم کا ارتکاب” کر رہا ہے۔
صدر ایردوان نے ویڈیو پیغام کے ذریعے کہا کہ اسرائیل، جو بجلی، پانی اور خوراک کاٹ کر جنگی جرائم کا ارتکاب کررہاہےغزہ کے لوگوں کے ساتھ باہر سے رابطہ منقطع کر کے ان کے ظلم کو سننے سے روکنے کی کوشش کر رہا ہے یہ عمل انسانیت کے سخت خلاف ہے۔
اسرائیل جن شہریوں کو جان بوجھ کر نشانہ بناتا ہے وہ صرف بچوں اور عورتوں تک محدود نہیں ہے۔
اسرائیل ان صحافیوں کو بھی قتل کرتا ہے جو تمام تر مشکلات کے باوجود غزہ میں ہونے والے انسانی المیے کو دنیا کے سامنے لانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
ترک رہنما نے مزید کہا کہ 60 سے زائد صحافیوں کو قتل کیا گیا ہے۔
صدر ایردوان نے بعض میڈیا اداروں کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا جن کا خیال ہے کہ اسرائیل سچ پر ہے۔
انہوں نے حماس کے حملے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بہت سے میڈیا اداروں نے، 7 اکتوبر کے واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے، غزہ میں اسرائیل کی طرف سے انسانیت کے خلاف جرائم اور جنگ کو نظر انداز کیا۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیلی سیکورٹی فورسز کے ہاتھوں ان کے ساتھیوں کے قتل کے بعد بھی یہ رویہ تبدیل نہیں ہوا۔
اس غیر اصولی رویے سے نہ صرف اپنی جانیں گنوانے والے صحافیوں کے اہل خانہ بلکہ پریس بھی متاثر ہوئے۔
مجھے یقین ہے کہ اس نے پوری کمیونٹی کو گہرا نقصان پہنچایا ہے۔
صدر نے "بہادر” ترک صحافیوں کو بھی مبارکباد دی جنہوں نے غزہ میں اسرائیل کی جارحیت کی کوریج کی ہے جب سے کشیدگی میں اضافہ ہوا ہے۔
ترک صحافیوں نے لمحہ بہ لمحہ میدان میں صورت حال کی رپورٹنگ کی اور اس عمل میں انہوں نے واقعی ایک بہادر موقف کا مظاہرہ کیا۔
انہوں نے تنازعہ کو کور کرنے کے لیے انادولو اور TRT کا بھی شکریہ ادا کیا۔
گزشتہ کئی ہفتوں کے دوران تنازعات کی وجہ سے، گنجان آباد غزہ کی پٹی میں متعدد فلسطینیوں کا رابطہ خاندانی افراد سے منقطع ہو گیا جس کی وجہ مسلسل مواصلاتی بلیک آؤٹ اور نقل و حرکت میں مشکلات کا سامنا ہے۔
7 اکتوبر سے جب حماس نے اسرائیل کے خلاف اچانک حملہ کیا تھا، شدید اسرائیلی حملوں اور شمالی غزہ کی پٹی میں زمینی کارروائی سے لاکھوں لوگ جنوب کی طرف بھاگ گئے۔
اسرائیلی فوج اور حماس کے درمیان چار روزہ انسانی وقفہ جمعہ کی صبح غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں میں نافذ ہوا، قیدیوں کے تبادلے اور امداد کے لیے حملے عارضی طور پر روک دیے گئے۔
