turky-urdu-logo

اسلامک نیٹو کا خواب -ترکیہ اور پاکستان کا عظیم وژن

تحریر ۔شبانہ آیاز

ترکیہ اور پاکستان، جنہیں اسلامی دنیا کے "جڑواں ستاروں” کے طور پر دیکھا جاتا ہے، خطے کی جیو پولیٹیکل میں ایک عظیم طاقت کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ 14 اگست 2023 کو ترک پارلیمنٹ کے رکن علی شاہین نے اپنی ایک X پوسٹ میں اس اتحاد کی اہمیت کو اجاگر کیا تھا، جس میں دونوں ممالک کے مشترکہ کردار، مشرق وسطیٰ میں امن پر مبنی سیکیورٹی میکانزم، اور اسلاموفوبیا کے خلاف عالمی لابی کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔

آج، 25 ستمبر 2025 کو، یہ وژن مزید اہمیت اختیار کر چکا ہے، کیونکہ حالیہ پیش رفت—جیسے پاکستان-سعودی عرب دفاعی معاہدہ، قطر پر اسرائیلی حملہ، اور "اسلامک نیٹو” کی تجاویز—نے اسلامی دنیا کی جغرافیائی سیاسی صورتحال کو بدل دیا ہے۔ اس آرٹیکل میں، ہم علی شاہین کے نکات کا تجزیہ کرتے ہوئے ترکیہ-پاکستان اتحاد کی اہمیت اور اس کے مشرق وسطیٰ و اسلامی جغرافیہ کے مستقبل پر اثرات کا جائزہ لیں گے، ساتھ ہی پاکستان-سعودی معاہدے اور دیگر ممالک (نیپال، بنگلہ دیش، سری لنکا) کے ساتھ متوقع تعاون کو شامل کریں گے۔ *پاکستان-سعودی عرب دفاعی معاہدہ: ایک نیا موڑ-* 17 ستمبر 2025 کو ریاض میں دستخط شدہ "اسٹریٹجک میوچوئل ڈیفنس ایگریمنٹ” (SMDA) پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک تاریخی پیش رفت ہے۔ یہ معاہدہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے پر حملے کو اپنے خلاف حملہ سمجھنے کا پابند کرتا ہے، جس سے مشترکہ فوجی مشقیں، انٹیلی جنس شیئرنگ، اور دفاعی صلاحیت میں اضافہ ہوگا۔

پاکستان کے لیے یہ معاہدہ تیل کی ترسیل، سرمایہ کاری، اور افرادی قوت کے روزگار کے مواقع بڑھاتا ہے، جبکہ سعودی عرب کو جوہری طاقت رکھنے والے پاکستان کی حمایت ملے گی۔ تاہم، خلیج میں امریکی فوجی اڈوں کی موجودگی—جیسے قطر کا العدید ایئر بیس (10,000 امریکی میرینز)، بحرین کا نیول سپورٹ بیس (9,000 فوجی)، اور سعودی عرب کا پرنس سلطان ایئر بیس—اس معاہدے کی اسٹریٹجک آزادی کو محدود کرتا ہے۔تجزیہ نگاروں کے مطابق، سعودی عرب کے اسرائیل کے ساتھ غیر رسمی تعلقات اور بھارت کے ساتھ بڑھتی معاشی شراکت داری اس معاہدے کی بھارت یا اسرائیل کے خلاف افادیت کو کم کرتی ہے۔ تاہم، ترکیہ، نیپال، بنگلہ دیش، اور سری لنکا کے ساتھ متوقع معاہدوں کی بات کی جا رہی ہے، جو پاکستان کی خطے میں اسٹریٹجک پوزیشن کو مضبوط کر سکتے ہیں۔

خاص طور پر ترکیہ کے ساتھ دفاعی تعاون—جیسے گوادر میں مشترکہ UAVs اور فضائی دفاعی اڈہ—پاکستان کی فوجی جدیدیت اور علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے۔ 2025 میں، ترکیہ اور پاکستان نے دفاعی صنعت اور انرجی تعاون پر مذاکرات کیے، جن میں گوادر کو ایک مشترکہ دفاعی مرکز بنانے کی تجاویز شامل ہیں۔ لیکن بھارت کی مخالفت اور علاقائی چیلنجز اسے عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹ ہیں۔سوال یہ اٹھتا ہے کہ کیا یہ معاہدے ترکیہ-پاکستان اتحاد کے وسیع تر وژن کے ساتھ ہم آہنگ ہو سکتے ہیں؟؟؟- *ترکیہ-پاکستان اتحاد: علی شاہین کے وژن کا تجزیہ-* علی شاہین نے اپنی X پوسٹ میں ترکثی اور پاکستان کو اسلامی دنیا کے لیے ایک نئی سمت دینے والا اتحاد قرار دیا۔

ان کے کلیدی نکات اور ان کی حقیقت پسندی کا جائزہ درج ذیل ہے۔شاہین نے تجویز دی کہ ترکیہ اور پاکستان کو فلسطین، کشمیر، اور یمن جیسے مسلم مسائل کے لیے ایک مشترکہ فریم ورک تیار کرنا چاہیے، کیونکہ مغربی حل اکثر استحصالی ہوتے ہیں۔ 2023-2025 کی غزہ جنگ (جس میں 62,000 سے زائد فلسطینی ہلاک ہوئے) اور شام میں 2025 کی عبوری حکومت کے قیام نے اس کی ضرورت کو واضح کیا۔ تجزیہ نگاروں کے مطابق، پاکستان کی جوہری صلاحیت اور ترکیہ کی علاقائی موجودگی ایک "اسلامک امن فورم” کی بنیاد بن سکتی ہے۔ قطر سمٹ 2025 میں پاکستان کی "عرب-اسلامک ٹاسک فورس” کی تجویز اس سمت میں ایک قدم ہے۔ تاہم، پاکستان کی معاشی کمزوری (2025 میں GDP نمو 2.5% سے کم) اور ترکیہ کی اندرونی سیاسی چیلنجز (2025 کی احتجاج اور معاشی بحران) اسے عملی جامہ پہنانے میں رکاوٹ ہیں۔

شاہین کا کہنا ہے کہ ترکیہ اور پاکستان کو اسلامی اقدار کو مغربی جمہوریت کے متبادل کے طور پر پیش کرنا چاہیے، جو ماحول، انسانی حقوق، اور انفرادی آزادیوں پر مبنی ہو۔ تجزیہ نگار اسے ایردوان کی "نیو عثمانی” پالیسی اور پاکستان کی اسلامی شناخت سے جوڑتے ہیں۔ 2025 میں یورپ میں بڑھتی اسلاموفوبیا (جہاں ایک تہائی مسلمانوں کو روزمرہ امتیازی سلوک کا سامنا ہے) نے اس کی اہمیت کو بڑھا دیا ہے۔ ترکیہ کی قطر ورلڈ کپ سیکیورٹی اور پاکستان کی علاقائی مداخلت ایک مخلصانہ ماڈل پیش کر سکتی ہے، لیکن اس کے لیے دونوں ممالک کو عالمی فورمز جیسے اقوام متحدہ میں مشترکہ آواز اٹھانے کی ضرورت ہے۔- اسلاموفوبیا کے خلاف مشترکہ اقدامات-

شاہین نے مغرب میں بڑھتی اسلاموفوبیا اور قرآن جلانے کی کوششوں کے خلاف مشترکہ لابی کی ضرورت پر زور دیا۔ ترکیہ اور پاکستان کی یورپ و امریکہ میں بڑی ڈائسپورا (ترکیہ کی 7 ملین، پاکستان کی 4 ملین) اس کے لیے ایک مضبوط پلیٹ فارم فراہم کرتی ہے۔ AKP کی عالمی نمائندگی، جیسے اسلام آباد میں دفاتر، اس کی مثال ہے۔ X پر حالیہ بحثوں میں تجزیہ نگار اسے "مسلم مڈل پاورز” کی حکمت عملی قرار دیتے ہیں، جو امریکی دشمنی کا مقابلہ کر سکتی ہے۔ ترکیہ کی فلسطین کی حمایت (2025 میں 157 ممالک نے فلسطین کو تسلیم کیا) اور پاکستان کی کشمیر کی وکالت اس کی بنیاد بن سکتی ہے۔شاہین نے مشرق وسطیٰ کے لیے امن پر مبنی سیکیورٹی میکانزم کی بھی تجویز دی تھی، جس میں پاکستانی جنرلز کی خدمات اور ترکیہ کی قطر سیکیورٹی شامل ہے۔ تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان-

سعودی معاہدہ اس کی بنیاد بن سکتا ہے، جو ترکیہ کی شمولیت سے "اسلامک نیٹو” میں تبدیل ہو جائے۔ اس بلاک کی 700 ملین آبادی، 5-6 ٹریلین ڈالر کی معیشت، اور پاکستان کی جوہری صلاحیت اسے NATO جتنا طاقتور بنا سکتی ہے۔ حالیہ X پوسٹس میں، یہ اتحاد شام کی تعمیر نو (جہاں 2025 میں ترکیہ اور پاکستان نے مشترکہ کوششیں شروع کیں) اور دمشق کی فوج کی تربیت میں مددگار قرار دیا گیا ہے۔ *-گوادر میں مشترکہ دفاعی اڈہ* ـشاہین نے گوادر میں مشترکہ UAVs اور فضائی دفاعی اڈے کی تجویز دی، جو CPEC اور علاقائی استحکام کے لیے اہم ہے۔ تجزیہ نگار اسے پاکستان کی تیل و گیس کی تلاش اور ترکیہ کی TPAO کی شمولیت سے جوڑتے ہیں۔ 2025

کی میٹنگز میں، میزائل ترقی اور شام میں مشترکہ بیس اسے عملی شکل دے رہے ہیں، لیکن بھارت اور اسرائیل کی مخالفت ان کے لئے چیلنجز ہیں۔ترکیہ-پاکستان اتحاد کے وژن کے باوجود، کئی چیلنجز ہیں۔ پاکستان کی معاشی کمزوری اور امریکی دباؤ (جیسے 2025 میں ایران حملوں پر تنقید) اسے محدود کرتے ہیں۔ ترکیہ کی اندرونی سیاسی تقسیم (2025 کی احتجاج اور معاشی بحران) اور سعودی عرب کی امریکی انحصاری اسے پیچیدہ بناتی ہے۔

نیپال، بنگلہ دیش، اور سری لنکا کے ساتھ معاہدے بھارت کے اثر و رسوخ کی وجہ سے محدود افادیت رکھتے ہیں۔ بھارت کی جنوبی ایشیا میں "بیک یارڈ ڈپلومیسی” نے 2025 میں نیپال، بنگلہ دیش، اور سری لنکا میں سیاسی انتشار پیدا کیا، جو پاکستان کی حکمت عملی کو متاثر کر رہا ہے۔ تاہم، ترکیہ کی فلسطین اور قبرص کی حمایت، اور پاکستان کی کشمیر پر آواز، اس اتحاد کی مضبوط بنیاد ہیں۔ترکیہ اور پاکستان کا اتحاد، جیسا کہ علی شاہین نے بیان کیا، مشرق وسطیٰ اور اسلامی جغرافیہ کے لیے ایک نئی صبح کی نوید ہے۔

پاکستان-سعودی معاہدہ اور ترکیہ، نیپال، بنگلہ دیش، اور سری لنکا کے ساتھ متوقع تعاون اسے عملی شکل دے سکتے ہیں۔ یہ اتحاد ایک "اسلامک نیٹو” کی شکل اختیار کر سکتا ہے، جو امن، خود مختاری، اور اسلامی اقدار پر مبنی ہو۔ تاہم، اس کے لیے دونوں ممالک کو اپنی معاشی، سیاسی، اور اسٹریٹجک حدود پر قابو پانا ہوگا۔ آج کے دور میں، یہ اتحاد نہ صرف ممکن بلکہ ضروری ہے—ایک ایسی طاقت جو مغربی استحصال کے مقابلے میں اسلامی دنیا کی خود مختاری کی ضمانت دے۔

Read Previous

سعودی عرب کا بڑا اعلان — گوادر میں 10 ارب ڈالر کی آئل ریفائنری کی تعمیر کی حتمی منظوری

Read Next

ترک اسکالرشپ کے تحت ترکیہ جانے والے پاکستانی طلبہ کے لیے اورینٹیشن ٹریننگ، ترک سفیر عرفان نذیراوغلو کی شرکت

Leave a Reply