turky-urdu-logo

سعودی تیل کی سب سے بڑی ریفائنری پر ایرانی ڈرون حملہ، جزوی طور پر معطل

سعودی عرب کی توانائی وزارت کے مطابق، ملک کی سب سے بڑی ریفائنری راس تنورہ میں پیر کے روز ایرانی ڈرون حملے کے بعد آگ بھڑک اُٹھی جس کے نتیجے میں ریفائنری کے کچھ آپریشنل یونٹس جزوی طور پر بند کر دیے گئے۔ وزارت نے بیان میں کہا کہ "ریفائنری کے بعض یونٹس کو احتیاطی طور پر بند کیا گیا ہے، تاہم مقامی منڈیوں میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی پر کوئی اثر نہیں پڑا۔”

یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں جاری حملوں کی لہر کے دوران پیش آیا، جس کے نتیجے میں عراق کے نیم خودمختار شمالی علاقے میں زیادہ تر تیل کی پیداوار عارضی طور پر معطل ہو گئی ہے، جبکہ اسرائیل کے کئی بڑے گیس فیلڈز بھی متاثر ہوئے، جس سے مصر کو تیل کی برآمدات میں کمی دیکھی گئی۔

واضح رہے کہ یہ ایرانی جوابی حملے اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے کیے گئے حملوں کے ردعمل میں کیے گئے، جن میں ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنہ ای ہلاک ہو گئے تھے۔

راس تنورہ سعودی عرب کی سب سے بڑی ریفائنری ہے اور یہ اوپیک کے رکن ملک کی توانائی کی اہم کڑی کے طور پر جانی جاتی ہے۔ سعودی ارامکو کے زیر انتظام یہ سہولت روزانہ 5 لاکھ 50 ہزار بیرل تیل پیدا کرتی ہے اور جزوی طور پر بند کرنے کا فیصلہ احتیاطی طور پر کیا گیا۔ ریفائنری خلیج کے ساحل پر واقع توانائی کے بڑے کمپلیکس کا حصہ ہے، جو سعودی تیل کی برآمد کے لیے بھی انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔

سعودی وزارت دفاع کے ایک ترجمان کے مطابق، ریفائنری پر دو ڈرون مار گرائے گئے، جن کے ٹکڑوں سے محدود پیمانے پر آگ لگی، اور کسی کے زخمی ہونے کی اطلاع نہیں ملی۔

اس جزوی بندش کے باعث عالمی منڈی میں سپلائی کے خدشات بڑھ سکتے ہیں، خاص طور پر ہرمز کے تنگ راستے کے ذریعے جس سے دنیا کی تقریباً پانچویں تیل کی کھپت گزرتی ہے، وہاں گزشتہ اتوار کو جہازوں پر حملے

Read Previous

مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی فوج کی پناہ گزین کیمپ پر چھاپہ متعدد افراد زیر حراست

Read Next

مقبوضہ کشمیر میں احتجاج، بھارتی فورسز کی آنسو گیس شیلنگ، متعدد علاقوں میں کشیدگی

Leave a Reply