ایران میں دسمبر 2025 کے آخر سے شروع ہونے والے مظاہرے اور فسادات جنوری 2026 میں شدت اختیار کر چکے ہیں اور اب ملک کے تمام 31 صوبوں تک پھیل چکے ہیں۔ ابتدا میں یہ احتجاجات شدید معاشی بحران — ایرانی ریال کی تیز گراوٹ، بلند ترین مہنگائی، توانائی کی قلت اور خوراک کی بڑھتی قیمتوں — کے خلاف تھے، تاہم وقت کے ساتھ یہ تحریک حکومت مخالف رخ اختیار کر گئی۔ تہران، اصفہان، شیراز، مشہد، کرمانشاہ اور دیگر بڑے شہروں میں مظاہرین سڑکوں پر نکل آئے، جہاں “مرگ بر خامنہ ای”، “نہ غزہ نہ لبنان، میری جان ایران کے لیے” اور بعض مقامات پر “زندہ باد شاہ” جیسے نعرے سنائی دیے، جبکہ رضا پہلوی کی واپسی کے مطالبات بھی سامنے آئے۔
حکومتی فورسز نے ان مظاہروں کے جواب میں سخت کریک ڈاؤن کیا۔ لائیو فائرنگ، آنسو گیس، بڑے پیمانے پر گرفتاریاں اور انٹرنیٹ کی بندش جیسے اقدامات کیے گئے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق درجنوں نہیں بلکہ سینکڑوں افراد ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔ سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ان مظاہروں کو امریکہ اور اسرائیل کی سازش قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد ایران کو اندر سے کمزور کرنا اور بیرونی مداخلت کے لیے راستہ ہموار کرنا ہے۔
ایرانی قیادت کے مطابق حالیہ مظاہرے محض عوامی غصے تک محدود نہیں رہے بلکہ ان میں غیر ملکی عناصر کی منظم شمولیت کے شواہد بھی سامنے آئے ہیں۔ ایرانی سرکاری بیانیے کے مطابق بعض شہروں میں موساد سے منسلک نیٹ ورکس، بھارتی اور افغان عناصر احتجاجی ہجوم میں شامل رہے، جن پر مساجد کو آگ لگانے، مساجد میں گھس کر قرآنِ پاک کی بے حرمتی کرنے اور ایرانی قومی پرچم نذرِ آتش کرنے جیسے سنگین الزامات عائد کیے جا رہے ہیں۔ ایران ان اقدامات کو پرامن احتجاج نہیں بلکہ مذہبی اشتعال، سماجی انتشار اور قومی وحدت کو توڑنے کی منظم کوشش قرار دے رہا ہے۔
9 جنوری 2026 کو اپنے خطاب میں سپریم لیڈر نے واضح کیا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی دھمکیاں اور ممکنہ فوجی کارروائی کے اشارے اس بات کا ثبوت ہیں کہ مغربی طاقتیں ایران میں رجیم چینج چاہتی ہیں — وہی ماڈل جو عراق، لیبیا اور شام میں تباہی کا باعث بنا۔ اسی تناظر میں ایرانی آرمی (آرتش) نے 10 جنوری کو اعلان کیا کہ وہ قومی مفادات، اسٹریٹجک انفراسٹرکچر اور عوامی املاک کے تحفظ کو ہر صورت یقینی بنائے گی، جبکہ پاسدارانِ انقلاب نے 1979 کے انقلاب کے دفاع کو ریڈ لائن قرار دیا۔ ان بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایرانی مسلح افواج اندرونی طور پر متحد ہیں۔
پاکستان کا ردعمل
پاکستان نے ایران کی صورتحال پر محتاط مگر واضح مؤقف اپنایا ہے۔ دفترِ خارجہ نے پاکستانی شہریوں کو ایران کے غیر ضروری سفر سے گریز اور وہاں مقیم افراد کو سفارتی مشنز سے رابطے میں رہنے کی ہدایت دی ہے۔ اسلام آباد خطے میں استحکام کا خواہاں ہے اور کسی بھی بیرونی مداخلت کی مخالفت کرتا ہے، کیونکہ ایران میں انتشار کے اثرات براہِ راست پاکستان کی سرحدی سلامتی، معیشت اور بلوچستان جیسے حساس علاقوں پر پڑ سکتے ہیں۔ پاکستان ایران کی خودمختاری کی حمایت اور کشیدگی کم کرنے پر زور دے رہا ہے۔
ترکیہ کا مؤقف
ترکیہ، جو ایران کے ساتھ 534 کلومیٹر طویل سرحد رکھتا ہے، اس بحران کو نہایت سنجیدگی سے دیکھ رہا ہے۔ ترک وزیر خارجہ حقان فیدان نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایران میں جاری احتجاجات اگرچہ اندرونی مسائل کا نتیجہ ہیں، مگر ان سے فائدہ اٹھانے کی کوشش خاص طور پر اسرائیل اور نیتن یاہو کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق اسرائیل کی ایران میں حکومت گرانے کی خواہش کبھی پوری نہیں ہوگی۔ فیدان نے کہا کہ جب ایران مذاکرات کی طرف بڑھتا ہے تو اس پر ناقابلِ قبول شرائط مسلط کی جاتی ہیں، اور فوجی ناکامیوں کے بعد اب عوامی بے چینی کو ہتھیار بنایا جا رہا ہے۔ ترکیہ نے احتیاطاً ایران کے لیے بعض فلائٹس منسوخ کی ہیں اور ممکنہ انسانی ہجرت کے بحران کی تیاری بھی شروع کر دی ہے۔
علاقائی اور عالمی تناظر
ایران کے اسٹریٹجک اتحادی چین اور روس نے بھی غیر مداخلت کی پالیسی کی توثیق کی ہے۔ چین نے 12 جنوری 2026 کو ایران کی خودمختاری اور استحکام کی حمایت کا اعلان کیا، جبکہ روس کے نزدیک بھی ایران میں نظام کا برقرار رہنا اس کے علاقائی مفادات سے جڑا ہوا ہے۔
مجموعی طور پر ایران کا موجودہ بحران صرف داخلی مسئلہ نہیں رہا بلکہ ایک علاقائی سلامتی کا چیلنج بن چکا ہے۔ عوام کے جائز معاشی مطالبات کو مذاکرات اور اصلاحات کے ذریعے حل کیا جا سکتا ہے، مگر غیر ملکی ایجنڈے پر مبنی تشدد، مذہبی بے حرمتی اور انتشار نہ ایران کے لیے قابلِ قبول ہے اور نہ ہی خطے کے لیے۔ اگر صورتحال قابو سے باہر ہوئی تو اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور ہمسایہ ممالک تک پھیل سکتے ہیں۔
