turky-urdu-logo

ایرانی کھلاڑیوں کی سیکیورٹی خدشات کے باعث ایران کا ورلڈ کپ میچز امریکا سے میکسیکو منتقل کرنے پر غور

ایران کی فٹبال فیڈریشن نے کھلاڑیوں کی سلامتی سے متعلق خدشات کے پیشِ نظر عالمی فٹبال تنظیم فیفا سے رابطہ کر کے آئندہ فٹبال ورلڈ کپ میں اپنے میچز امریکا کے بجائے میکسیکو میں کرانے کے امکان پر باضابطہ بات چیت شروع کر دی ہے۔ ایرانی فٹبال فیڈریشن کے صدر مہدی تاج نے پیر کے روز اس پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں امریکا میں ایرانی ٹیم کی حفاظت یقینی نہیں سمجھی جا سکتی۔

ایران کی ورلڈ کپ میں شرکت اس وقت غیر یقینی کا شکار ہو گئی جب ٹورنامنٹ کے مشترکہ میزبان امریکا نے اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر فضائی حملے کیے۔ اس کے بعد خطے میں کشیدگی بڑھ گئی اور سیکیورٹی خدشات نے کھیلوں کے میدان کو بھی متاثر کیا۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ ہفتے بیان دیا تھا کہ ایران کو شرکت کی اجازت ہے، تاہم ان کے بقول ممکن ہے کہ ایرانی ٹیم کے لیے امریکا میں کھیلنا “ان کی اپنی جان اور سلامتی کے لیے مناسب نہ ہو۔”

مہدی تاج نے میکسیکو میں ایرانی سفارت خانے کے سوشل میڈیا پیغام میں کہا کہ جب امریکی قیادت خود ایرانی قومی ٹیم کی سیکیورٹی کی ضمانت دینے سے قاصر ہے تو ٹیم امریکا کا سفر نہیں کرے گی، اسی لیے میچز کو میکسیکو منتقل کرنے کے لیے فیفا سے مذاکرات کیے جا رہے ہیں۔ فیفا کی جانب سے اس معاملے پر فوری طور پر کوئی ردِعمل سامنے نہیں آیا۔

ایران نے گزشتہ برس ایشیائی کوالیفائنگ مرحلے کے تیسرے راؤنڈ میں اپنے گروپ میں پہلی پوزیشن حاصل کر کے مسلسل چوتھی مرتبہ ورلڈ کپ کے لیے کوالیفائی کیا تھا۔ عالمی کپ کا آغاز گیارہ جون کو امریکا، کینیڈا اور میکسیکو میں بیک وقت ہونا ہے، جبکہ ایران کے گروپ مرحلے کے دو میچز لاس اینجلس اور ایک میچ سیئٹل میں شیڈول ہے۔ گروپ جی میں ایران کے حریف بیلجیئم، مصر اور نیوزی لینڈ کی ٹیمیں ہیں۔ لاس اینجلس اور سیئٹل میں قائم مقامی منتظمین نے بھی اس معاملے پر فوری تبصرہ نہیں کیا۔

اگر ایران کے میچز واقعی میکسیکو منتقل کیے جاتے ہیں تو یہ ٹورنامنٹ کے انتظامات میں ایک بڑی تبدیلی ہوگی، اگرچہ سیکیورٹی یا سیاسی وجوہات کی بنا پر میچز کی منتقلی ماضی میں بھی ہوتی رہی ہے۔ ایران کے وزیر کھیل نے حالیہ بیان میں کہا تھا کہ تہران پر حملوں کے بعد ایرانی کھلاڑیوں کی شرکت ممکن نہیں لگتی، خصوصاً اس واقعے کے بعد جس میں ملک کی اعلیٰ قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔

اگر ایران باضابطہ طور پر دستبردار ہو جاتا ہے تو جدید دور میں ورلڈ کپ سے یہ ایک غیر معمولی واقعہ ہوگا اور فیفا کو فوری طور پر متبادل ٹیم کا انتخاب کرنا پڑے گا۔ تاہم ایشیائی فٹبال کنفیڈریشن نے واضح کیا ہے کہ اسے ایران کی جانب سے دستبرداری کا کوئی باضابطہ نوٹس موصول نہیں ہوا۔ کنفیڈریشن کے سیکریٹری جنرل نے کوالالمپور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ حتمی فیصلہ ایرانی فیڈریشن کو کرنا ہے اور فی الحال انہیں بتایا گیا ہے کہ ٹیم ورلڈ کپ میں شرکت کا ارادہ رکھتی ہے۔

Read Previous

خطے میں جنگوں اور بحرانوں کی شدت، امتِ مسلمہ کو اتحاد کی اشد ضرورت ہے : رجب طیب ایردوان

Read Next

انقرہ میں حاجی ابراہیم ڈیمیر مسجد کا افتتاح، صدر ایردوان کا اقدار کی حفاظت پر زور

Leave a Reply