صدر رجب طیب اردوان نے کہا کہ ترکیہ نے 2025 میں دفاعی برآمدات کے شعبے میں حاصل کی گئی رفتار کو برقرار رکھا ہے، جو ملک کی دفاعی صنعت کے استحکام اور تسلسل کا واضح ثبوت ہے۔
انہوں نے بتایا کہ 2002 میں ترکیہ کی دفاعی برآمدات محض 248 ملین ڈالر تھیں، جو مسلسل ترقی کے نتیجے میں 2025 میں 9.87 ارب ڈالر تک پہنچ گئیں، یوں اس عرصے میں تقریباً چالیس گنا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
صدر اردوان کے مطابق دفاعی اور ایوی ایشن شعبے کی برآمدات ترکیہ کے لیے باعثِ فخر ہیں اور یہ اس بات کی علامت ہیں کہ ملک نے اس میدان میں عالمی سطح پر اپنی شناخت مضبوط کر لی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ترکیہ دفاعی صنعت کے شعبے میں عالمی سطح پر اپنا نام منوانے والا ملک بن چکا ہے۔
صدر اردوان نے اسپین کے ساتھ طے پانے والے حالیہ HÜRJET طیارہ فراہمی کے معاہدے کو اس پیش رفت کی نمایاں مثال قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ معاہدہ دفاعی اور ایوی ایشن کے شعبے میں ترکیہ کے قائدانہ اور پیش رو کردار کی تصدیق کرتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ HÜRJET کا کسی یورپی اور نیٹو کے رکن ملک کے دفاعی ذخیرے میں شامل ہونا، ان شاء اللہ، آنے والے برسوں میں ترکیہ کے لیے مزید مواقع اور نئی منڈیوں کے دروازے کھولے گا، اور عالمی سطح پر ترکیہ کے دفاعی اعتماد کو مزید مستحکم کرے گا۔
