پاکستان میں نیشنل کمانڈ اتھارٹی کے اہم اجلاس میں وزیر اعظم عمران خان نے صدارت کی ۔
چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ندیم رضا، آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ، پاک فضائیہ کے سربراہ ایئر مارشل مجاہد انور خان، پاک بحریہ کے سربراہ ایڈمرل امجد خان نیازی اجلاس میں شریک ہوئے
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیر دفاع پرویز خٹک، وزیر داخلہ شیخ رشید، وزیر خزانہ شوکت ترین سمیت دیگر اعلیٰ عسکری قیادت بھی اجلاس میں موجود تھی۔
اجلاس میں پاکستان کے اسٹریٹجک اثاثوں کی مضبوط اور مؤثر سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لئے اقدامات کا جائزہ لیا گیا۔
نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم پر اعتماد اور اطمینان کا اظہار کیا۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان ایک ذمہ دار نیوکلیئر ریاست ہے۔
نیوکلیئر اثاثوں کی حفاظت کے لئے عالمی کوششوں کے ساتھ اس میں مزید بہتری لائی جائے گی۔
اجلاس کو خطے کی بدلتی ہوئی صورتحال پر بریفنگ دی گئی۔ نیشنل کمانڈ اتھارٹی نے خطے میں اسلحے کے عدم توازن پر گہری تشویش ظاہر کی اور کہا کہ روایتی اور اسٹریٹجک شعببوں میں جنگی اسلحے میں اضافے سے خطے کا امن متاثر ہو سکتا ہے۔ پاکستان اس پوری صورتحال میں اسلحے کی دوڑ میں شامل ہوئے بغیر خطے میں امن و استحکام کے لئے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔
اجلاس میں اس عزم کا اظہار کیا گیا کہ پاکستان اپنی سرحدوں کی جغرافیائی حدود کی حفاظت کے لئے پوری طرح تیار ہے اور اپنے دفاع کے لئے ہر وقت چوکس ہے۔
