ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ ملک میں قابلِ تجدید توانائی کے منصوبوں میں نمایاں پیش رفت کے نتیجے میں مجموعی نصب شدہ بجلی صلاحیت میں رینیوایبل ذرائع کا حصہ 62 فیصد تک پہنچ چکا ہے۔ انہوں نے یہ بات Cemre Foundation کے تعارفی پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
صدر ایردوان نے بتایا کہ ہوا اور شمسی توانائی کے منصوبوں میں توسیع کے ذریعے توانائی کے شعبے میں ماحول دوست ذرائع کو فروغ دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت قدرتی وسائل کے تحفظ اور آئندہ نسلوں کے لیے صاف اور قابلِ رہائش ترکیہ کی تشکیل کے لیے سنجیدہ اقدامات کر رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ شجرکاری کے میدان میں دنیا کے نمایاں ممالک میں شمار ہوتا ہے اور یورپ میں جنگلاتی رقبے میں سب سے زیادہ اضافہ کرنے والے ممالک میں شامل ہے۔ ان کے بقول، “آج پوری دنیا ماحولیاتی اور موسمیاتی چیلنجز کے ایک نازک دور سے گزر رہی ہے، ایسے میں ماحولیاتی بحران کو نظرانداز کرنا نہ ممکن ہے اور نہ ہی درست۔”
صدر ایردوان نے ماحولیاتی شعور کو “وطن سے وابستگی کا شعور” اور “مستقبل کی تعمیر کا شعور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ پائیدار ترقی اور قدرتی وسائل کا تحفظ حکومت کی طویل مدتی پالیسی کا مرکزی حصہ ہے۔
انہوں نے اعلان کیا کہ ترکیہ رواں سال انطالیہ میں COP31 کی میزبانی کرے گا، جس میں تقریباً 200 ممالک کی شرکت متوقع ہے۔ ان کے مطابق، “اب وقت صرف باتوں کا نہیں بلکہ عملی اقدامات کا ہے۔” انہوں نے مزید کہا کہ ماحولیاتی منصوبوں میں کسی قسم کی سیاسی تفریق نہیں برتی جاتی اور فطرت کے تحفظ کے لیے ہر مثبت قدم کی حمایت کی جاتی ہے۔
تقریب کے دوران حکام نے بتایا کہ ملک بھر میں شجرکاری مہمات، جنگلات کی بحالی، قابلِ تجدید توانائی میں سرمایہ کاری، پائیدار شہری منصوبہ بندی اور آبی وسائل کے مؤثر انتظام جیسے اقدامات ترکیہ کی جامع ماحولیاتی حکمتِ عملی کا حصہ ہیں۔
جیمری فاؤنڈیشن کی تقریب میں نوجوانوں کی شرکت اور عوامی شعور بیدار کرنے کے لیے نئے پروگراموں اور شراکت داریوں کا بھی اعلان کیا گیا۔ صدر ایردوان نے اپنے خطاب کے اختتام پر عالمی ماحولیاتی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے اتحاد اور مشترکہ کوششوں کی ضرورت پر زور دیا
