turky-urdu-logo

امریکہ_ ایران جنگ میں عالمی میڈیا پاکستان کو کیسے پیش کر رہا ہے؟

تحریر : کامران رفیع

عالمی میڈیا اس وقت پاکستان کو امریکہ–ایران تنازع میں محض ایک تماشائی کے طور پر نہیں بلکہ ایک ایسے ریاستی کردار کے طور پر پیش کر رہا ہے جسے شدید جیوپولیٹیکل دباؤ کے ماحول میں سفارتی افادیت کے لیے آزمایا جا رہا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا کا مجموعی تاثر یہ ہے کہ پاکستان کو ایک علامتی تبصرہ نگار کے بجائے ایک ممکنہ پسِ پردہ رابطہ کار ریاست کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مختلف عالمی ادارے رپورٹ کر رہے ہیں کہ پاکستان کی عسکری اور سول قیادت دونوں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں میں متحرک ہیں۔ آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی ڈونلڈ ٹرمپ سے بات چیت اور وزیر اعظم شہباز شریف کی ایرانی صدر مسعود پزشکیان سے رابطہ اسی تناظر میں دیکھا جا رہا ہے۔ اسلام آباد کو ممکنہ مذاکراتی مقام کے طور پر بھی زیرِ غور لایا جا رہا ہے، اگرچہ تاحال کوئی باضابطہ ملاقات طے نہیں ہوئی۔
عالمی میڈیا کا سب سے اہم زاویہ یہ ہے کہ پاکستان کو ایک غیر متوقع مگر کارآمد پل کے طور پر پیش کیا جا رہا ہے، کیونکہ اس کے بیک وقت واشنگٹن، تہران اور خلیجی دارالحکومتوں کے ساتھ فعال روابط موجود ہیں۔ اس تناظر میں پاکستان کے کردار کو عملی افادیت کے طور پر دکھایا جا رہا ہے۔
دوسرا اہم زاویہ یہ ہے کہ عالمی رپورٹنگ میں پاکستان کے سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کے کردار کو مرکزی حیثیت دی جا رہی ہے۔ یہ معاملہ محض وزارتِ خارجہ تک محدود نہیں دکھایا جا رہا بلکہ عسکری قیادت کے روابط اور اثر و رسوخ کو نمایاں کیا جا رہا ہے۔ اس سے عالمی سطح پر پاکستانی فوج کے مظبوط اور فیصلہ کن ہونے کے تاثر کو تقویت ملتی ہے۔
تیسرا اہم زاویہ معاشی اور جیو اسٹریٹیجک نوعیت کا ہے۔ پاکستان کی ثالثی کو آبنائے ہرمز کے خطرات سے جوڑا جا رہا ہے، جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچواں حصہ تیل اور ایل این جی گزرتی ہے۔ مذاکرات کی خبروں نے عالمی منڈی میں تیل کی قیمت کو دوبارہ 100 ڈالر فی بیرل سے نیچے لانے میں کردار ادا کیا۔ پاکستان خود بھی توانائی کے ان راستوں پر انحصار کے باعث ممکنہ عدم استحکام سے متاثر ہو سکتا ہے، اس لیے یہ معاملہ صرف سفارت کاری نہیں بلکہ توانائی، تجارت اور عام آدمی کی مہنگائی کے خدشات سے بھی جڑا ہوا ہے۔
چوتھا زاویہ ٹرمپ کے بیانیے اور ایران کے مؤقف میں تضاد ہے۔ ایک طرف ٹرمپ “مضبوط مذاکرات” کی بات کرتے ہیں، جبکہ ایران براہِ راست رابطوں کی تردید کر رہا ہے۔ اس تضاد سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان کا کردار اہم ضرور ہے مگر اصل مسئلہ امریکہ اور ایران کے درمیان موجود بنیادی اختلافات ہیں
مجموعی طور پر عالمی میڈیا پاکستان کو ایک قابلِ اعتبار ثالث کے طور پر پیش کر رہا ہے جو سہولت کار اور ممکنہ امن ساز کے درمیان توازن قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہ صورتحال پاکستان کو عالمی سفارتی منظرنامے میں نمایاں ضرور بناتی ہے، مگر اس کے ساتھ توقعات بھی بڑھا دیتی ہے۔
اگر پاکستان بالواسطہ یا ابتدائی نوعیت کے مذاکرات کی میزبانی میں کامیاب ہو جاتا ہے تو اسے ایک اہم جیوپولیٹیکل پیش رفت سمجھا جائے گا۔ اور اگر مذاکرات آگے نہ بھی بڑھ سکیں تو بھی موجودہ عالمی کوریج پاکستان کو ایک ایسے ملک کے طور پر پیش کر رہی ہے جو ایک بڑے عالمی بحران میں متعلقہ اور مؤثر حیثیت رکھتا ہے۔

Read Previous

ترکیہ میں فوجی حادثہ، سپاہی یوسف آچائے دورانِ ڈیوٹی جان کی بازی ہار گئے

Read Next

ہندوستان: جنگ پر خاموشی کب تک اور پاکستان سے سبق

Leave a Reply