turky-urdu-logo

ترکیہ میں گھوڑوں، گدھوں اور خچروں کی تعداد میں نمایاں کمی، مجموعی مویشیوں میں اضافہ

ترکیہ میں گھوڑوں، گدھوں اور خچروں کی تعداد میں گزشتہ دو دہائیوں کے دوران نمایاں کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ یہ اعداد و شمار ترک شماریاتی ادارے (ترک اسٹیٹ) کی جانب سے جاری کردہ تازہ رپورٹ میں سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق زرعی اور نقل و حمل کے شعبوں میں ٹیکنالوجی کے فروغ نے روایتی جانوروں پر انحصار کو کم کر دیا ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 20 برسوں میں گھوڑوں کی تعداد میں 68 فیصد کمی واقع ہوئی ہے اور یہ گھٹ کر 65 ہزار 339 رہ گئی ہے۔ اسی عرصے میں گدھوں کی تعداد 81 فیصد کم ہو کر 60 ہزار 332 جبکہ خچروں کی تعداد 83 فیصد کمی کے بعد 12 ہزار 398 تک محدود ہو گئی ہے۔

رپورٹ کے مطابق 1991 میں ترکیہ میں گھوڑوں، گدھوں اور خچروں کی مجموعی تعداد 16 لاکھ سے زائد تھی، جو 2006 تک کم ہو کر تقریباً 6 لاکھ رہ گئی۔ بعد ازاں یہ رجحان مسلسل برقرار رہا اور 2016 کے بعد ان جانوروں کی تعداد میں مزید کمی دیکھنے میں آئی۔

ماہرین کے مطابق زراعت میں مشینی نظام کے فروغ، سڑکوں کے بہتر انفراسٹرکچر اور موٹر گاڑیوں کے بڑھتے استعمال نے خاص طور پر دیہی اور پہاڑی علاقوں میں ان جانوروں کی ضرورت کو کم کر دیا ہے، جہاں یہ ماضی میں ناگزیر سمجھے جاتے تھے۔

دوسری جانب مجموعی مویشیوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ ترک اسٹیٹ کے مطابق 2006 میں ملک میں زندہ مویشیوں کی مجموعی تعداد تقریباً 4 کروڑ 32 لاکھ تھی، جو گزشتہ سال بڑھ کر 7 کروڑ 55 لاکھ سے تجاوز کر گئی۔

اس اضافے میں سب سے بڑا کردار بڑے اور چھوٹے مویشیوں کا رہا ہے۔ اس وقت ترکیہ میں تقریباً ایک کروڑ 75 لاکھ گائے اور بیل جبکہ ایک لاکھ 64 ہزار سے زائد بھینسیں موجود ہیں۔ بھیڑوں کی تعداد 4 کروڑ 66 لاکھ سے زیادہ اور بکریوں کی تعداد ایک کروڑ 11 لاکھ سے تجاوز کر چکی ہے۔

پولٹری کے شعبے میں بھی نمایاں اعداد سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق ٹرکی مرغیوں کی تعداد 31 لاکھ 92 ہزار، بطخوں کی 3 لاکھ 89 ہزار اور ہنسوں کی تعداد 12 لاکھ 64 ہزار ریکارڈ کی گئی ہے۔

رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ گزشتہ سال اونٹوں کی تعداد 1 ہزار 55 جبکہ خنزیروں کی تعداد 1 ہزار 388 ریکارڈ کی گئی۔

اعداد و شمار اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ جہاں ایک جانب واحد سُم والے روایتی جانوروں کی تعداد میں مسلسل کمی آ رہی ہے، وہیں جدید زرعی ڈھانچے کے تحت ترکیہ میں مجموعی لائیو اسٹاک میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

Read Previous

ترک سائنسدان اقوامِ متحدہ کے مصنوعی ذہانت پینل کے رکن منتخب

Read Next

ترک سائنسدان نے موسمی خطرات کے لیے 60 گھنٹے قبل خبردار کرنے والا ابتدائی انتباہی نظام تیار کر لیا

Leave a Reply