turky-urdu-logo

ترکیہ میں حجاب کی جیت اور روایتی ساتر لباس کی عزت کا ایک تاریخی واقعہ

تحریر شبانہ ایاز

یہ کوئی عام واقعہ نہیں ہے۔ یہ ایک زندہ قوم کی روح کی جھلک ہے۔ ایک چھوٹے سے ضلع میں بیٹھی ایک خاتون، جس نے اپنے شلوار قمیص، سفید دوپٹہ اور سفید تُل بنت (یازما) کے ساتھ دن رات عوام کی خدمت کی، اچانک سوشل میڈیا پر تضحیک کا نشانہ بنائی گئی۔

لیکن جو لوگ اسے کمزور کرنے آئے تھے، انہیں معلوم نہ تھا کہ یہ توہین ایک طوفان بن کر واپس آئے گی۔ یہ طوفان تھا سفید دوپٹہ و شلوار تحریک کا، جو ترکیہ میں حجاب کی نئی فتح کی علامت بن گیا۔

واقعہ کچھ یوں ہے کہ ایک اچھی پارٹی کے رکن محمد امین قورقماز نے سوشل میڈیا پر ترکیہ کی مقامی ضلعی میئر زینپ گنیش کی بابت لکھا کہ یہ شلوار پوش عورت ضلع کا انتظام چلانے کی بجائے باڑے میں گائے کا دودھ دوہے۔

یہ الفاظ محض ایک شخص کی رائے نہیں تھے۔ یہ برسوں سے دبے ہوئے ایک زہریلے خیال کی آواز تھی، وہ خیال جو اناطولیائی خواتین کے روایتی ساتر لباس کو پسماندگی اور جہالت سے جوڑتا رہا۔ وہی ذہنیت جو کبھی حجاب کو یونیورسٹیوں سے نکالتی رہی، سرکاری ملازمتوں سے روکتی رہی اور لاکھوں خواتین کو تعلیم اور عزت سے محروم کرتی رہی۔

لیکن اس بار معاملہ مختلف تھا۔ متاثرہ خاتون کوئی عام شہری نہیں تھیں۔ وہ زینپ گونیش آق گیون تھیں، ایسکی شہر کے ضلع میہالغازی کی بلدیہ چیئر پرسن، انصاف و ترقی پارٹی سے تیسری بار منتخب ہونے والی ایک مضبوط خاتون۔

وہ اپنے علاقے کی مٹی سے جڑی ہوئی تھیں، اپنی ماں دادیوں کی روایات کو زندہ رکھتی تھیں اور اپنے عوام کی خدمت میں لگی رہتی تھیں۔ جب یہ پوسٹ وائرل ہوئی تو پورے ترکیہ میں غم اور غصہ پھیل گیا۔ لوگوں نے محسوس کیا کہ یہ صرف ایک خاتون کی توہین نہیں، یہ ان کی ماں، بہن، بیٹی اور پوری قوم کی عزت اور ان کے لباس و حجاب پر حملہ ہے۔

10 فروری 2026 کو حکومتی انصاف و ترقی پارٹی کی مرکزی مجلس عاملہ کے اجلاس کے دوران صدر رجب طیب ایردوان نے خود زینپ گنیش کو ٹیلی فون کیا۔ ان کی آواز میں درد تھا، غصہ تھا اور سب سے بڑھ کر ایک باپ جیسی محبت تھی۔ انہوں نے تضحیک کی سخت مذمت کی، انہیں مکمل حمایت کا یقین دلایا اور پھر زینپ کو ایک تاریخی دعوت دی:

بدھ 11 فروری کو پارلیمانی گروپ اجلاس میں آؤ۔ 100 خواتین کے ساتھ آؤ۔ سب سفید دوپٹہ و تُل بنت اور روایتی لباس میں ملبوس ہوں۔ یہ ہماری مشترکہ جدوجہد ہے۔

صدر ایردوان کی یہ دعوت محض ایک تقریب کی نہیں تھی بلکہ ایک واضح پیغام تھا کہ ترکیہ میں حجاب اور روایتی ساتر لباس اب کوئی شرم کی بات نہیں رہا۔ یہ فخر ہے، یہ طاقت ہے، یہ شناخت ہے۔

یہ واضح پیغام تھا کہ جو لوگ برسوں سے حجاب پہننے والی خواتین کے تعلیمی حقوق چھینتے رہے، جو اناطولیائی اقدار کو حقیر سمجھتے رہے، اب ان کے خلاف آواز اٹھائی جائے گی۔

11 فروری 2026 کو ترکیہ کی گرینڈ نیشنل اسمبلی میں وہ لمحہ آیا جب زینپ گونیش آق گیون 100 خواتین کے ہمراہ داخل ہوئیں۔ سب نے سفید حجاب اوڑھ رکھے تھے، شلوار اور روایتی اناطولیائی لباس میں ملبوس۔ ہال میں داخل ہوتے ہی تالیاں گونج اٹھیں۔ پورا ہال کھڑا ہو گیا۔ صدر ایردوان نے انہیں اپنے ساتھ بٹھایا۔ تقریر کے دوران ان کی آنکھیں نم تھیں۔

ایردوان نے کہا کہ
ہم ان لوگوں کے خلاف جدوجہد جاری رکھیں گے جو برسوں سے حجاب پہننے والی خواتین کے تعلیمی حقوق چھینتے رہے اور عوام کو حقیر سمجھتے ہیں۔ ایک صدی قبل جنگ آزادی میں اناطولیہ کی خواتین نے سفید دوپٹے اوڑھ کر جدوجہد میں حصہ لیا تھا۔ اُسی روایت کی جھلک آج پارلیمنٹ کے اس ہال میں نمایاں ہے۔

یہ الفاظ دل کو چھو گئے۔ زینپ گونیش کی آنکھوں میں آنسو آ گئے۔ وہ خاموش بیٹھی سن رہی تھیں، لیکن ان کے چہرے پر فخر اور شکر گزاری چھلک رہی تھی۔ انہیں احساس ہوا کہ وہ اکیلی نہیں، ان کے ساتھ پوری قوم ہے، ان کا صدر ہے۔

اس واقعے نے سوشل میڈیا پر آگ لگا دی۔ شلوار تحریک راتوں رات ٹرینڈ بن گیا۔ ہزاروں خواتین نے اپنے شلوار، یازما اور روایتی لباس میں تصاویر شیئر کیں۔ پیغام ایک جیسا تھا
یہ ہماری ماں دادیوں کا لباس ہے، یہ ہماری شناخت ہے
جو اسے حقیر سمجھتے ہیں وہ خود کو حقیر سمجھتے ہیں

یہ ایک جذباتی طوفان تھا جو برسوں کی خاموشی توڑ رہا تھا۔ محمد امین قورقماز کو گرفتار کر لیا گیا۔ عدالت نے انہیں عوام میں نفرت پھیلانے کے الزام میں جیل بھیج دیا۔ لیکن اصل فتح یہ تھی کہ ایک چھوٹے ضلع کی بلدیہ چیئر پرسن کی آواز اور حجاب اب قومی سطح پر عزت حاصل کر رہا تھا۔

اس تنازع نے سیاسی میدان میں بھی ایک غیر معمولی اتحاد اور احترام کا مظاہرہ کیا۔ 12 فروری 2026 کو اچھی پارٹی کے جنرل چیئرمین موساوات درویش اوغلو نے خود ایسکی شہر صوبے کے میہالغازی ضلع جا کر زینپ گونیش آق گیون سے ان کے دفتر میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات محض ایک رسمی دورہ نہیں تھا بلکہ ایک گہری سیاسی اور اخلاقی حمایت کا اظہار تھی۔

درویش اوغلو نے واضح الفاظ میں کہا کہ ایسے توہین آمیز بیانات سماجی اتحاد کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں اور یہ زبان مستقبل کی نسلوں کے لیے زہر کا کام کرتی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پارٹی نے فوری طور پر محمد امین قورقماز کو پارٹی سے خارج کر کے اپنی ذمہ داری پوری کی ہے اور ایسے رویوں کی سخت مذمت کی ہے۔ زینپ گونیش نے بھی دل سے مہمانوں کا استقبال کیا۔

یہ تمام باتیں ترکیہ کی سیاست میں ایک روشن مثال ہیں کہ جب بات عزت، احترام اور روایتی اقدار کی ہو، تو سیاسی اختلافات سے بالاتر ہو کر سب مل کر کھڑے ہو سکتے ہیں۔

نیز یہ واقعہ ترکیہ کی سیاست میں لباس، مذہبی شناخت اور سیاسی اخلاقیات کے موضوع پر بحث کا باعث بنا۔ اچھی پارٹی نے اسے ایک موقع کے طور پر استعمال کر کے احترام اور سماجی ہم آہنگی کا پیغام دیا، جو اس تنازع کے بعد پیدا ہونے والے تقسیم کے ماحول میں ایک مثبت پیش رفت تھی۔

دنیا واقف ہے کہ ترکیہ کے شہروں میں اسکرٹ، پینٹ اور یورپی طرز کا لباس خواتین میں بہت رائج ہے۔ نوجوان لڑکیاں اور خواتین جدیدیت اور عالمی رجحانات کو اپنا چکی ہیں۔ لیکن شلوار تحریک نے ایک گہرا سوال اٹھایا
کیا روایتی لباس پہننا پسماندگی ہے؟ کیا ہم اپنی جڑوں سے منہ موڑ رہے ہیں؟

یہ تحریک مغربی لباس کا انکار نہیں بلکہ یہ انتخاب اور فخر کا اعلان ہے۔ ترک خواتین یہ پیغام دے رہی ہیں کہ وہ مغربی اور روایتی دونوں لباس پہن سکتی ہیں، لیکن کسی کو حقیر نہیں سمجھا جا سکتا۔ دوپٹہ، شلوار اور تُل بنت کوئی کمزوری نہیں، یہ محنت، دیانت اور ترک ثقافت کی طاقت ہیں۔ یہ ترک اقدار کی طرف زبردستی نہیں بلکہ دل سے اور خود شناسی کے ساتھ واپسی ہے۔

ترکیہ میں حجاب یعنی حجاب کی جدوجہد ایک صدی پرانی ہے۔ 1913 سے لے کر 28 فروری 1997 کے پوسٹ ماڈرن کو تک لاکھوں خواتین نے تعلیم اور نوکری سے محرومی کا سامنا کیا۔ یونیورسٹیاں، سرکاری ادارے، پارلیمنٹ سب جگہ حجاب پر پابندی تھی۔

لیکن ترک خواتین کی استقامت نے فتح دلائی۔ انصاف و ترقی پارٹی کے دور میں مرحلہ وار تبدیلیاں آئیں۔ 2013 میں کام کی جگہوں پر حجاب کی آزادی، 2016 میں فوج میں حجاب کی اجازت۔ آج پارلیمنٹ، یونیورسٹیاں اور سرکاری دفاتر میں حجاب پہننے والی خواتین موجود ہیں۔ یہ پابندی سے آزادی تک کا سفر تھا، اور اب شلوار تحریک نے اسے مزید آگے بڑھا دیا ہے۔

زینپ گونیش آق گیون آج بھی اپنے ضلع میں وہی سفید حجاب پہن کر کام کر رہی ہیں۔ ان کا حجاب اب صرف کپڑا نہیں، ایک علامت ہے۔ علامت اس بات کی کہ ترکیہ تبدیل ہو رہا ہے۔ ایک ایسا ترکیہ جہاں ہر خاتون، شہر کی ہو یا دیہات کی، اپنے حجاب، دوپٹے، شلوار کے ساتھ فخر سے چل سکتی ہے۔

یہ کہانی ختم نہیں ہوئی۔ یہ جاری ہے۔ اور اس میں ہر وہ خاتون شامل ہے جو اپنی شناخت اور اقدار کے ساتھ فخر محسوس کرتی ہے۔

یہ واقعہ ترکیہ میں حجاب کی جیت ہے۔
یہ روایتی ساتر لباس کی عزت کی جیت ہے۔
یہ اناطولیائی خواتین روایات کی جیت ہے۔
اور سب سے بڑھ کر یہ ترکیہ کے عوام کی جیت ہے۔

Read Previous

رمضان 2026: دنیا کے کس علاقے میں سب سے مختصر اور کہاں طویل ترین روزہ ہوگا؟

Leave a Reply