ایران اور اسرائیل کے درمیان جاری جنگ کے ساتویں روز ایرانی دارالحکومت تہران پر شدید فضائی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں، جبکہ اسرائیل نے اعلان کیا ہے کہ جنگ اب ایک “نئے مرحلے” میں داخل ہو چکی ہے اور وہ ایرانی حکومت کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنا رہا ہے۔
ایرانی میڈیا کے مطابق جمعہ کی صبح تہران میں زور دار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ وہ شہر میں “حکومتی انفراسٹرکچر” کو نشانہ بنا رہی ہے۔ اسرائیلی فوج کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل ایال ضمیر نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کی مشترکہ کارروائیاں اب اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہیں جس کا مقصد ایرانی حکومت اور اس کی عسکری صلاحیتوں کو مزید کمزور کرنا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ آئندہ دنوں میں مزید “حیران کن اقدامات” کیے جائیں گے۔
دوسری جانب امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگسیتھ نے اعلان کیا کہ ایران اور تہران کے خلاف امریکی فوجی طاقت میں نمایاں اضافہ کیا جائے گا۔
ادھر ایران کے پاسدارانِ انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے اسرائیلی شہر تل ابیب کی جانب میزائل داغے ہیں۔ اسرائیل میں جمعرات کی رات تل ابیب اور شمالی شہر نتانیا میں دھماکوں اور راکٹوں کی روشنی آسمان پر دیکھی گئی۔
لبنان اور خلیجی ممالک بھی متاثر
جنگ کے اثرات خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیل گئے ہیں۔ لبنان میں اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ہلاکتوں کی تعداد 123 تک پہنچ گئی ہے۔ ایرانی حمایت یافتہ تنظیم حزب اللہ کی جانب سے میزائل حملوں کے بعد اسرائیل نے لبنان میں متعدد فضائی حملے کیے۔
اسرائیلی انتباہات کے بعد بیروت کے جنوبی مضافات سے ہزاروں افراد نقل مکانی کر چکے ہیں اور کئی بے گھر خاندان ساحلِ سمندر پر پناہ لینے پر مجبور ہیں۔
خلیجی ممالک میں بھی حملے
قطر نے کہا ہے کہ اس نے امریکی فضائی اڈے العدید کو نشانہ بنانے والے ایک ڈرون کو مار گرایا۔
اسی طرح بحرین نے بتایا کہ ایران نے دارالحکومت میں ایک ہوٹل اور دو رہائشی عمارتوں کو نشانہ بنایا تاہم جانی نقصان نہیں ہوا۔
سعودی عرب کے مطابق اس نے تین بیلسٹک میزائل تباہ کر دیے۔
جنگ کے آغاز کے بعد خلیجی ممالک میں اب تک 13 افراد ہلاک ہو چکے ہیں جن میں کویت کی ایک 11 سالہ بچی بھی شامل ہے۔
ایران میں معلومات کی کمی
ایران میں انٹرنیٹ کی شدید بندش کے باعث زمینی صورتحال کے بارے میں معلومات محدود ہو گئی ہیں۔ مانیٹرنگ ادارے نیٹ بلاکس کے مطابق ملک میں انٹرنیٹ رسائی معمول کے مقابلے میں صرف ایک فیصد رہ گئی ہے۔
ہلاکتیں اور عالمی ردعمل
ایرانی سرکاری فاؤنڈیشن کے مطابق امریکی اور اسرائیلی حملوں میں ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 1230 تک پہنچ گئی ہے، تاہم اس کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں۔
امریکی فوج کے مطابق جنگ کے آغاز سے اب تک اس کے 6 اہلکار مارے گئے ہیں جبکہ اسرائیل میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔
ایران کا مؤقف
ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا کہ تہران نے جنگ بندی کی درخواست نہیں کی اور اسے امریکا کے ساتھ مذاکرات کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔
ٹرمپ کا بیان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کے آئندہ رہنما کے انتخاب میں امریکا کو کردار ادا کرنا پڑے گا۔ انہوں نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے بیٹے مجتبیٰ خامنہ ای کی ممکنہ قیادت کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ وہ قابلِ قبول نہیں۔
جنگ کے باعث عالمی منڈیوں، توانائی کی ترسیل اور فضائی سفر پر بھی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، جبکہ خلیج میں واقع اہم بحری گزرگاہ آبنائے ہرمز کی صورتحال پر بھی دنیا کی نظریں مرکوز ہیں۔
