ترکیہ کی حکومتی اتحادی جماعت نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (ایم ایچ پی) کے سربراہ دولت باہچے لی نے دہشت گرد تنظیم پی کے کے کے خاتمے کے لیے شروع کیے گئے اقدام سے پیچھے نہ ہٹنے کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے اس منصوبے پر تنقید کرنے والوں کو سخت تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی سے پاک ترکیہ اور خطہ ترک قوم کے مستقبل کے تعین کے لیے انتہائی اہم قدم ہے۔
انقرہ میں پارٹی کے پارلیمانی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے باہچے لی نے کہا کہ جو عناصر اس مقصد کو مسترد کرتے ہیں وہ دراصل منفی عزائم رکھتے ہیں اور قومی اتحاد کو نقصان پہنچانے کی کوشش کر رہے ہیں۔
باہچے لی نے 2024 میں اس اقدام کا آغاز کرتے ہوئے پی کے کے کے قید رہنما عبداللہ اوجلان سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ تنظیم کو ہتھیار ڈالنے کا حکم دیں۔ اوجلان نے فروری 2025 میں تنظیم کو تحلیل ہونے کی اپیل کی، جس کے بعد پی کے کے کے ارکان نے شمالی عراق میں علامتی تقریب کے دوران اپنے ہتھیار نذرِ آتش کیے۔ بعد ازاں اس اقدام کو توسیع دے کر شام میں پی کے کے سے وابستہ وائی پی جی کو بھی شامل کرنے کی کوشش کی گئی۔
انہوں نے کہا کہ شام میں حالیہ پیش رفت، جہاں شامی فوج وائی پی جی کے زیرِ قبضہ علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر رہی ہے، دہشت گردی کے خاتمے کی مہم کا اہم مرحلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ترک اور کرد عوام کے درمیان بھائی چارے کو نقصان پہنچانے کی ہر کوشش ناکام ہوگی اور کسی دہشت گرد تنظیم کو کرد عوام سے جوڑنا غلط ہے۔
باہچے لی نے مزید کہا کہ ترکیہ اپنے قومی اہداف سے پیچھے نہیں ہٹے گا اور ملک میں امن و استحکام کا قیام اولین ترجیح رہے گا۔ انہوں نے عبداللہ اوجلان کو تنظیم کے خاتمے میں کردار ادا کرنے کی صورت میں قانونی سہولت دینے کی تجویز کا بھی اعادہ کیا۔
انہوں نے بعض معطل کرد نژاد سیاستدانوں کے حوالے سے بھی بات کی اور کہا کہ قانونی عمل کے مطابق فیصلے کیے جائیں گے۔ واضح رہے کہ ان سیاستدانوں کو ماضی میں پی کے کے سے مبینہ روابط کے الزام میں عہدوں سے ہٹایا گیا تھا۔ دولت باہچے لی نے ایران کے خلاف ممکنہ امریکی فوجی کارروائی کو خطے اور دنیا کے لیے سنگین خطرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ کسی بھی خودمختار ملک میں بیرونی طاقت کے ذریعے سیاسی تبدیلی کی کوشش تباہ کن نتائج پیدا کر سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ایران کے مستقبل کا فیصلہ صرف ایرانی عوام کا حق ہے اور مسائل کے حل کے لیے سفارت کاری اور مذاکرات کو ترجیح دی جانی چاہیے۔ انہوں نے صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے خطے میں کشیدگی کم کرنے کی کوششوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔
باہچے لی نے خبردار کیا کہ اگر روس۔یوکرین جنگ کے بعد مشرق وسطیٰ میں بھی تنازع پھیلتا ہے تو عالمی سطح پر سنگین بحران جنم لے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قطر اور ترکیہ کی سفارتی کوششیں امریکا اور ایران کے درمیان کشیدگی کم کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہیں، کیونکہ خطہ مزید کسی جنگ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
