غازی یونیورسٹی، انقرہ نے ترکیہ کی پہلی مقامی اور قومی جین تھراپی تحقیقاتی پروڈکٹ کی تیاری کے عمل کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ یہ منصوبہ نایاب جینیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے تیار کیا جا رہا ہے اور اسے ہائر ایجوکیشن کونسل (YÖK) کی معاونت سے ریسرچ یونیورسٹیز سپورٹ پروگرام (ADEP) کے تحت نافذ کیا جا رہا ہے۔
یہ تیاری غازی یونیورسٹی فیکلٹی آف میڈیسن کے شعبہ اطفال میٹابولزم اور شعبہ اطفال جینیات کے اشتراک سے، پروفیسر ڈاکٹر آلیو حسان اوغلو فیز ون کلینیکل ریسرچ سینٹر میں کی جا رہی ہے۔ منصوبے کا مقصد بین الاقوامی معیار کے مطابق اے اے وی (AAV) پر مبنی جین تھراپی تیار کرنا ہے، جو انسانی خلیات تک درست جینیاتی مواد پہنچائے۔
غازی یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر اوغور اُنال کے مطابق تحقیق ایک اہم مرحلے میں داخل ہو چکی ہے اور اس وقت مرکز میں ترکیہ اور بیرونِ ملک سے آنے والے متعدد مریضوں کا علاج جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ غازی یونیورسٹی کی 100ویں سالگرہ کے موقع پر وہ ایسی دریافتوں کے خواہاں ہیں جو بچوں اور مریضوں کے لیے امید بن سکیں۔ ریکٹر نے یاد دلایا کہ اس کلینک کو اس سے قبل صدر رجب طیب ایردوان کی جانب سے ایوارڈ سے بھی نوازا جا چکا ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ معروف امریکی ادارے چارلس ریور کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ اس تحقیق میں ایک اہم پیش رفت ہے۔
شعبہ اطفال جینیات کے سربراہ اور فیز ون سینٹر کے نائب ڈائریکٹر پروفیسر ڈاکٹر فاطح ایزگو کے مطابق، یہ مرکز پانچ سال قبل نئی ادویات کی حفاظت اور مؤثریت جانچنے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔ اس وقت مرکز میں 40 جدید علاج سے متعلق مطالعات جاری ہیں، جن میں سے 12 جین تھراپی پر مشتمل ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ اس منصوبے کے تحت ایک ایسی جینیاتی بیماری فیملیئل ہائپرفاسفیٹیمک ٹیومورل کیلسی نوسس کے لیے تحقیقاتی جین تھراپی تیار کی جا رہی ہے، جس کا اس وقت دنیا میں کوئی مؤثر علاج موجود نہیں۔ ان کے مطابق اس تھراپی کا ڈیزائن مکمل طور پر غازی یونیورسٹی کا اپنا ہے اور حتمی تیاری یونیورسٹی میں ہی کی جائے گی۔
مرکز کا یہ انفراسٹرکچر مستقبل میں دیگر جینیاتی بیماریوں کے علاج کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔ ابتدائی مرحلے میں خلیاتی سطح پر تحقیق کے بعد انسانی کلینیکل آزمائشیں کی جائیں گی۔ کامیابی کی صورت میں یہ علاج دنیا بھر کے بچوں کے لیے دستیاب ہو سکے گا۔
غازی یونیورسٹی کا یہ مرکز اب ایک بین الاقوامی طبی مرکز کی حیثیت اختیار کر چکا ہے، جہاں اس وقت 12 مختلف ممالک کے مریض زیرِ علاج ہیں، جبکہ حال ہی میں فلسطینی اور اردنی مریضوں کا علاج بھی شروع کیا گیا ہے۔
