turky-urdu-logo

ترکیہ میں غزہ فری مارکیٹ کا آغاز

الفاظ تھک گئے، اب عمل کی باری ہے۔
غزہ کے لیے ایک قطرہ سے سمندر بننے کی شروعات۔ترکیہ کی فری غزہ مارکیٹ کی کہانی۔۔

تحریر: شبانہ ایاز

غزہ میں جاری اسرائیلی جارحیت نے پوری دنیا کے ضمیر کو جھنجھوڑ دیا ہے۔ بمباری، بے گھری، بھوک، اور بے شمار بچوں کی جانیں—یہ سب دیکھ کر دل دکھتا ہے۔ برسوں سے ہم احتجاج کرتے رہے، سوشل میڈیا پر پوسٹس شیئر کیں، نعرے لگائے، مگر اکثر یہی محسوس ہوتا تھا کہ الفاظ ختم ہو رہے ہیں اور ظلم تھمنے کا نام نہیں لے رہا۔

پھر 2025 کے آخری مہینوں میں ترکیہ نے ایک ایسا قدم اٹھایا جو باتوں سے نکل کر عملی میدان میں آیا۔ استنبول کے بیلیک دوزو علاقے میں دسمبر 2025 میں فری غزہ مارکیٹ کھولی گئی۔ جنوری 2026 میں یہ خبر ترکیہ کے بڑے میڈیا جیسے انادولو ایجنسی، ڈیلی صباح اور ینی شفق میں چھائی رہی۔ لوگوں نے اسے استنبول کا پہلا "بائیکاٹ بازار” کہا۔

اس بازار کا اصول بہت سیدھا ہے. اسرائیل سے جڑی ہوئی یا اس کی حمایت کرنے والی کسی بھی کمپنی کی چیز یہاں نہیں ملے گی۔ نہ کوئی ایسا برانڈ، نہ اس کی کوئی پروڈکٹ۔ اس کی جگہ صرف مقامی ترک چیزیں (yerli ve milli)، حلال سرٹیفائیڈ اشیا، اور وہ درآمد شدہ سامان جو بائیکاٹ کی فہرست میں نہ ہو۔ دودھ، پنیر، گوشت، چائے، کافی، صابن، ڈٹرجنٹ، چاول، آٹا—سب کچھ ایسا جو روزمرہ کی زندگی کا حصہ ہے، مگر اخلاقی طور پر صاف۔

مارکیٹ کی مینیجر نائلہ اکتاش نے انٹرویو میں کہا کہ "لوگ اب پوچھ رہے تھے کہ ہم واقعی کیا کر سکتے ہیں؟ صرف نعرے لگانا کافی نہیں۔” یہ بازار کسی ایک آدمی کا نہیں، بلکہ سینکڑوں لوگوں کی مشترکہ کاوش ہے۔ کئی لوگوں نے چھوٹی چھوٹی رقمیں لگائیں—کچھ نے دس ہزار لیرا، کچھ نے پچاس ہزار—اور اسے "بائیکاٹ سپورٹرز کا بازار” بنا دیا۔ یہ محض دکان نہیں، ایک طرح کی معاشی مزاحمت کا مرکز بن گیا جہاں ہر خریداری ایک سیاسی اور اخلاقی فیصلہ بن جاتی ہے۔

ترکیہ میں فلسطین کی حمایت کوئی نئی بات نہیں۔ صدر رجب طیب اردوان نے ہمیشہ کھل کر غزہ کی بات کی، عوام نے بھی دل سے ساتھ دیا۔ 2023 سے 2025 تک بائیکاٹ کی لہر نے بہت سے عالمی برانڈز کو جھٹکا دیا۔ Starbucks کی دکانیں خالی پڑی رہیں، McDonald’s اور Coca-Cola کی سیلز گر گئیں۔ مگر فری غزہ مارکیٹ نے اسے صرف بائیکاٹ تک محدود نہیں رکھا—اس نے متبادل دیا۔ لوگوں کو بتایا کہ "اگر یہ نہیں خرید سکتے تو یہ لے لو، یہ ہمارا ہے، یہ حلال ہے، یہ ہماری صنعت کو مضبوط کرے گا۔”

یہ بازار Prestij Beykent Residence کے علاقے میں ہے، پتہ ہے Adnan Kahveci، Avrupa Caddesi۔ انسٹاگرام پر @freegazzamarket کا اکاؤنٹ ہے جہاں ہزاروں لوگ فالو کر رہے ہیں۔ وہاں افتتاح کی تصاویر، پروڈکٹس کی لسٹ، فلسطین کے بچوں کی تصاویر، اور حوصلہ افزائی کے پیغامات نظر آتے ہیں۔ ویب سائٹ gazzemarket.com.tr پر بھی صاف لکھا ہے کہ یہ فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیلی مظالم کے خلاف معاشی بائیکاٹ کے لیے بنایا گیا ہے۔

اب سوچیں، پاکستان میں یہ کیوں نہیں ہو سکتا؟؟؟؟
ہمارے ہاں بھی 2023 سے بائیکاٹ کی تحریک چل رہی ہے۔ لوگ Starbucks، KFC، Nestle، Pepsi، Coca-Cola سے دور ہو رہے ہیں۔ سوشل میڈیا پر لسٹس شیئر ہوتی ہیں، مظاہرے ہوتے ہیں، اور بہت سے گھر اب K&N’s، National Foods، Shan Masala، Dalda، Tapal، Shezan، Nurpur جیسی مقامی چیزوں کو ترجیح دیتے ہیں۔ مگر اب تک کوئی ایک جگہ ایسی نہیں جہاں جا کر یقین سے کہا جا سکے کہ "یہاں سب کچھ بائیکاٹ فری ہے”۔

ترکیہ کا ماڈل ہمیں بتاتا ہے کہ کراچی کے گلشن اقبال میں، لاہور کے جوہر ٹاؤن میں، اسلام آباد کے F-7 میں، یا راولپنڈی میں ایک چھوٹی سی دکان کھول کر فری فلسطین مارکیٹ یا بائیکاٹ زون بنایا جا سکتا ہے۔ شروع میں چند دوست مل کر چھوٹی سرمایہ کاری کریں، مقامی کمپنیوں سے ڈائریکٹ سامان لیں، سوشل میڈیا پر پروموٹ کریں۔ اس سے نہ صرف مقامی صنعت کو فائدہ ہوگا بلکہ بائیکاٹ کو ایک مستقل شکل ملے گی۔ نوجوانوں اور گھریلو خواتین کو ایک ایسی جگہ مل جائے گی جہاں وہ بغیر کسی شک کے خریداری کریں گے۔ اور سب سے اہم، معاشی پیغام براہ راست اسرائیل اور اس کے حامی برانڈز تک پہنچے گا۔

نائلہ اکتاش کا ایک جملہ بہت اہم ہے۔۔ "ہم ابھی ایک قطرہ ہیں، مگر سمندر بننے والے ہیں۔” یہ بات دل کو لگتی ہے۔ اگر یہ ماڈل پاکستان، ملائیشیا، انڈونیشیا، مصر، اردن، بنگلہ دیش جیسے ممالک میں پھیل گیا تو کیا خوبصورت منظر ہوگا۔ ہر شہر میں ایک ایسی دکان جہاں لوگ آئیں، خریدیں، اور ساتھ ہی فلسطین کے ساتھ یکجہتی اور عملی مدد کا اظہار بھی کریں۔

یہ مارکیٹ محض دکان نہیں، ایک طاقتور پیغام ہے۔ خریداری کوئی معمولی کام نہیں—یہ ایک ووٹ ہے۔ ہر روپیہ، ہر لیرا جو ظالم کی جیب میں نہیں جاتا، وہ مظلوم کی طرف جاتا ہے۔ غزہ کے بچوں کی آہ، عورتوں کی چیخیں، بوڑھوں کی دعائیں—یہ سب اب نعروں میں نہیں، ہمارے معاشی فیصلوں میں سنائی دے رہی ہیں۔

ترکیہ نے دکھا دیا کہ جب الفاظ تھک جائیں تو عمل کی باری آتی ہے۔ اب ہماری باری ہے۔ پاکستان میں بھی ایسے بازار کھلیں، ایسی تحریک چلے۔ کیونکہ "الفاظ ختم ہو گئے، اب عمل شروع ہو گیا ہے۔۔اور یہ عمل تب تک نہیں رکے گا جب تک فلسطین آزاد نہ ہو جائے۔

نائلہ اکتاش کا مذید کہنا تھا کہ بائیکاٹ مسلمانوں کا ہتھیار ہے۔ جو لوگ کہتے ہیں کہ ‘مجھ اکیلے سے کیا ہوتا ہے، میں تو بس ایک کپ کافی پی لوں گا’—تو کیا وہ بچے نہیں مریں گے اگر تم نہ پیو؟ کل وہی آگ ہمارے دروازے پر آئے گی۔ اس بیداری کو مضبوط کرو، بائیکاٹ جاری رکھو۔ ہمارے دروازے مضبوط ہوں گے۔

یہ الفاظ سن کر دل میں ایک عجیب سی ہلچل ہوتی ہے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ اکیلا ایک شخص کیا کر سکتا ہے؟ مگر جب سینکڑوں، ہزاروں لوگ ایک ساتھ کھڑے ہو جائیں تو طاقت بن جاتی ہے۔ فری غزہ مارکیٹ اسی طاقت کی ایک چھوٹی سی مثال ہے۔ اب وقت ہے کہ ہم بھی اپنے حصے کا کام کریں۔ چھوٹا سا قدم، مگر دل سے اٹھایا گیا قدم بھی بہت کچھ بدل سکتا ہے۔

Read Previous

"ترکی اور ازبکستان کے تعلقات کو مضبوط بنانے والا ‘4+4’ میکانزم خطے کی سیکیورٹی میں اہم کردار ادا کرے گا”

Read Next

ترکیہ ایک نئے دور میں داخل ہو چکا ہے، صدر رجب طیب ایردوان

Leave a Reply