امریکی صدر جو بائیڈن کا کہنا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں سے دور رکھنے کے لیے وہ ’آخری حربے‘ کے طور پر طاقت کا استعمال کریں گے۔
امریکہ کے صدر جو بائیڈن اقتدار سنبھالنے کے بعد مشرق وسطیٰ کے اپنے پہلے دورے پر بدھ کے روز تل ابیب پہنچے اور یہاں سے وہ تین روزہ دورے پر سعودی عرب کے شہر جدہ روانہ ہوں گے۔
منگل کو دورے پر روانہ ہونے سے قبل واشنگٹن میں اسرائیلی چینل 12 ٹی وی کو انٹرویو دیتے ہوئے، جسے بدھ کو نشر کیا گیا، بائیڈن کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے پاسدارانِ انقلاب کو غیر ملکی دہشتگروں کی فہرست میں شامل رکھیں گے چاہے اس کے نتیجے میں سنہ 2015 والا جوہری معاہدہ ختم ہو جائے۔
جب انھیں ان کے ماضی کے بیانات، جن میں ان کا کہنا تھا کہ وہ تہران کو جوہری طاقت کے حصول سے روکنے کے لیے طاقت کا استعمال کریں گے، کا حوالہ دیا گیا تو امریکی صدر نے کہا کہ ’اگر یہ آخری حربہ ہوا تو، ہاں۔‘
انٹرویو کے دوران امریکی صدر جوبائیڈن نے کہا کہ ایران کو جوہری ہتھیاروں کی تیاری اورحصول سے روکنے کے لئے طاقت کا استعمال خارج از امکان نہیں۔
ایران اس بات کی تردید کرتا آیا ہے کہ وہ جوہری ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تہران کا کہنا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام مکمل طور پر پرامن مقاصد کے لیے ہے۔
تہران نے سنہ 2015 میں چھ بڑی طاقتوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جس کے تحت اقتصادی پابندیاں ہٹائے جانے کے بدلے میں اس نے اپنے جوہری پروگرام کو محدود کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
امریکی صدر کا مزید کہنا تھا کہ سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہد ہ ختم کرکے غلطی کی جس نے ایران کو مزید خطرناک بنا دیا۔ایران ماضی کے مقابلے میں اب جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے بہت قریب ہے۔ایران کے انقلابی گارڈز کو بدستور دہشتگردوں کی فہرست میں رکھا جائے گا۔
امریکی صدر نے اس سوال کا کوئی جواب نہیں دیا کہ ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائی کی صورت میں کیا امریکا اسرائیل کے ساتھ مل کر کارروائی کرے گا۔
امریکی صدر اسرائیل کے بعد سعودی عرب کا دورہ کریں گے۔
سعودی عرب اور خلیجی ممالک کو تیل کی پیداوار بڑھانے پر آمادہ کرنے، سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان تعلقات استوار کروانے اور خلیجی ممالک اور اسرائیل کے درمیان مشترکہ دفاع تعاون کو آگے بڑھانے جیسے اہم امور امریکی صدر کے ایجنڈے کا حصہ ہیں۔
جو بائیڈن اسرائیل کے دورے کے دوران دو دن بیت المقدس (یروشلم) میں قیام کر رہے ہیں جہاں وہ اسرائیلی حکام کے علاوہ غرب اردن میں فلسطینی اتھارٹی کے رہنما محمود عباس سے بھی ملاقات کریں گے۔
امریکی صدر جو اسرائیل سے براہ راست سعودی عرب سفر کرنے والے پہلے امریکی صدر ہوں گے، سعودی عرب پہنچنے پر خیلجی ممالک کے ایک خصوصی اجلاس میں شرکت کریں گے جس میں عراق، مصر اورسوڈان کو خصوصی طور پر مدعو کیا گیا ہے۔
سعودی عرب اور اسرائیل خطے کے دو اہم ممالک اور امریکہ کے دو اہم اتحادی ملک ہیں جن کے باہمی تعلقات فلسطین کی وجہ سے کشیدہ رہے ہیں، اس دورے سے ان کے تعلقات میں بہتری لانے کی توقع کی جا رہی ہے۔
اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ جو بائیڈن کے مشرق وسطیٰ کے پہلے دورے کے دوران اسرائیل اور سعودی عرب کے تعلقات بہتر کرنے کے مزید اقدامات سامنے آ سکتے ہیں
امریکی صدر کا براہ راست اسرائیل سے سعودی عرب پرواز کرنا ان کاوشوں کی نشاندہی کرتا ہے جو اس سمت میں کئی ماہ سے جاری تھی
صدر بائیڈن کے دورے کا مقصد خطے میں استحکام کو فروغ دینا، اسرائیل کو خطے سے منسلک کرنا، ایران کے اثر و رسوخ کو روکنا اور چین اور روس کی جارحیت کے آگے بند باندھنا شامل ہے۔
