ترکیہ کے نامور عوامی شاعر اور موسیقار عاشق ویسل شاطیروغلو کو ان کی 52ویں برسی کے موقع پر ملک بھر میں شاندار انداز میں خراجِ عقیدت پیش کیا گیا۔ مختلف شہروں میں ان کی یاد میں تقریبات، موسیقی کے پروگرام اور خصوصی نشستوں کا انعقاد کیا گیا جن میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔
صدر رجب طیب ایردوان نے بھی معروف شاعر کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں کہا کہ عاشق ویسل نے اپنی شاعری اور موسیقی کے ذریعے ترک قوم کے جذبات کو بہترین انداز میں پیش کیا۔ انہوں نے کہا کہ وہ مرحوم شاعر کو ان کی برسی پر احترام اور دعا کے ساتھ یاد کرتے ہیں۔
ملک بھر میں بلدیاتی اداروں اور ثقافتی تنظیموں کی جانب سے منعقدہ تقریبات میں عاشق ویسل کے مشہور کلام اور گیت پیش کیے گئے۔ برصہ میں رمضان المبارک کے حوالے سے ایک خصوصی پروگرام منعقد کیا گیا جس میں ان کی شاعری کو خراجِ عقیدت پیش کیا گیا، جبکہ مرسین میں ایک یادگاری کنسرٹ کا اہتمام کیا گیا جس میں ان کے مشہور گیتوں کو پیش کیا گیا۔ اسی طرح آیدن میں بھی بلدیہ کے زیرِ اہتمام ایک ثقافتی پروگرام منعقد ہوا جس میں شہریوں نے بھرپور شرکت کی۔
ان کے آبائی گاؤں سیوریلان، جو صوبہ سیواس میں واقع ہے اور جہاں ان کے بچپن کے گھر کو اب میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا ہے، وہاں بھی خصوصی تقریبات کا اہتمام کیا گیا۔ اس موقع پر ایک مقامی شخص مصطفیٰ گُلیوروز نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عاشق ویسل کو یاد کیا اور انہیں “حکمت والا انسان” قرار دیا، جو خاموش طبیعت کے باوجود گہری بصیرت رکھتے تھے۔
تقریبات میں عوام نے عاشق ویسل کی لازوال خدمات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی شاعری اور موسیقی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ بنی رہے گی۔
