ترکیہ میں 6 فروری 2023 کو آنے والے تباہ کن زلزلوں کے بعد متاثر ہونے والے بچوں کی ہمت اور بحالی کی کہانی پر مبنی ایک خصوصی دستاویزی فلم اس ماہ لندن میں نمائش کے لیے پیش کی جائے گی، جس کا مقصد نہ صرف عالمی توجہ کو برقرار رکھنا ہے بلکہ متاثرہ بچوں کی مدد کے لیے فنڈز جمع کرنا بھی ہے۔
رپورٹس کے مطابق "جسٹ لائک بیفور” کے عنوان سے بنائی گئی 35 منٹ کی یہ دستاویزی فلم ہدایتکار سیبل کاراکرت کی تخلیق ہے، جسے 17 اپریل کو شام ساڑھے چھ بجے سے رات ساڑھے آٹھ بجے تک لندن کے معروف مقام یونی لیور ہاؤس میں دکھایا جائے گا۔ اس تقریب سے حاصل ہونے والی تمام آمدنی زلزلہ متاثرہ بچوں کی بحالی کے منصوبوں کے لیے عطیہ کی جائے گی۔
یہ دستاویزی فلم دو کمسن بچیوں، یارن چفتچی اور علیہ دینچ، کی زندگیوں پر مبنی ہے جنہوں نے زلزلے میں اپنے اعضا کھو دیے تھے۔ دونوں بچیوں کی ملاقات ادانا شہر میں واقع چکوروا یونیورسٹی کے چائلڈ ویلنس سینٹر میں ہوتی ہے، جہاں وہ علاج اور بحالی کے دوران ایک گہری دوستی قائم کرتی ہیں۔ ان کی یہ دوستی امید، حوصلے اور ایک دوسرے کے ساتھ کھڑے رہنے کی ایک متاثر کن مثال کے طور پر سامنے آتی ہے۔
فلم میں نہ صرف انفرادی کہانیوں کو اجاگر کیا گیا ہے بلکہ بحران کے وقت کمیونٹی کی مشترکہ کوششوں کو بھی نمایاں کیا گیا ہے۔ اس سلسلے میں "بریج ٹو ترکیہ فنڈ” کے تحت چلائے جانے والے سی اے ٹی ای منصوبے کو بھی دکھایا گیا ہے، جس نے امریکہ میں مقیم ترک کمیونٹی کو متحرک کیا۔ اس منصوبے کے تحت 250 سے زائد کمیونٹی پروگرام منعقد کیے گئے، جن کے ذریعے دس لاکھ ڈالر سے زائد رقم جمع کی گئی۔جمع کی گئی اس رقم کو متاثرہ بچوں کے لیے مصنوعی اعضا کی فراہمی، جسمانی بحالی کے علاج اور تعلیمی وظائف جیسے اہم اقدامات پر خرچ کیا گیا۔ لندن میں ہونے والی اس نمائش سے حاصل ہونے والی آمدنی بھی چکوروا یونیورسٹی میں قائم چائلڈ ویلنس سینٹر کو دی جائے گی، جو ملبے سے نکالے گئے اور اعضا سے محروم بچوں کی بحالی اور طویل مدتی نگہداشت پر کام کر رہا ہے۔
یہ مرکز ترک پیڈیاٹرک ایسوسی ایشن کے تعاون سے قائم کیا گیا تھا اور اس کا بنیادی مقصد ایسے بچوں کو نہ صرف طبی سہولیات فراہم کرنا ہے بلکہ انہیں تعلیمی اور نفسیاتی مدد بھی دینا ہے تاکہ وہ ایک بہتر اور خود مختار زندگی کی طرف بڑھ سکیں۔
"بریج ٹو ترکیہ فنڈ” نامی غیر منافع بخش تنظیم 2003 میں ترک نژاد امریکی رضاکاروں نے قائم کی تھی۔ اس تنظیم کا مقصد بیرون ملک مقیم ترک کمیونٹی اور ترکیہ میں سماجی منصوبوں کے درمیان روابط کو مضبوط بنانا ہے۔ یہ ادارہ تعلیم، نوجوانوں کی فلاح، آفات سے نمٹنے اور ماحولیات کے شعبوں میں مختلف منصوبوں کی سرپرستی کرتا ہے۔
اب تک یہ تنظیم 30 ملین ڈالر سے زائد فنڈز جمع کر چکی ہے اور دنیا بھر میں چالیس ہزار سے زیادہ عطیہ دہندگان اور رضاکاروں کے تعاون سے دس لاکھ سے زائد بچوں تک مدد پہنچا چکی ہے۔
منتظمین کے مطابق لندن میں ہونے والی اس دستاویزی فلم کی نمائش کا مقصد صرف مالی امداد جمع کرنا نہیں بلکہ عالمی برادری کو اس بات کی یاد دہانی کرانا بھی ہے کہ زلزلے کے متاثرین، خصوصاً بچے، طویل عرصے تک مدد اور توجہ کے محتاج رہتے ہیں۔ اس اقدام سے امید ظاہر کی جا رہی ہے کہ متاثرہ بچوں کی بحالی کے سفر میں مزید عالمی تعاون حاصل ہوگا۔
