turky-urdu-logo

آٹھ مسلم ممالک کے اتحاد کی تنظیم ڈی ایٹ کو فعال بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے ، فاتح اربکان

نیو رفاہ پارٹی ترکیہ کے صدر اور سابق وزیراعظم نجم الدین اربکان کے بیٹے ڈاکٹر فاتح اربکان نے وفد کے ہمراہ پاکستان کا دورہ کیا اور جماعت اسلامی کے اجتماع عام میں شرکت کی ۔ انہوں نے مینار پاکستان میں اجتماع کے بین الاقوامی سیشن سے خطاب کیا اور لاہور کے مقامی ہوٹل میں انٹرنیشنل کانفرنس میں بھی اظہار خیال کیا۔ بعد ازاں ترکیہ اردو سے خصوصی بات کرتے ہوئے ڈاکٹر فاتح اربکان نے کہا کہ "ہمیں پاکستانی بھائیوں سے مل کر بے حد خوشی محسوس ہو رہی ہے۔ پاکستان اور ترکیہ دو ایسے ممالک ہیں جن کے درمیان تاریخی تعلقات اور روابط موجود ہیں۔ ہماری ثقافت، تاریخ، دین اور عقائد سب مشترک ہیں۔

اسی لیے پاکستان میں موجود ہونا ہمارے لیے باعثِ سعادت ہے۔”ڈاکٹر فاتح نے اپنے والد نجم الدین اربکان کو یاد کرتے ہوئے کہا کہ ترکیہ میں عوام کی مرحوم اُستاذ اربکان ہُوجّم کے ساتھ محبت، وفاداری اور ان کی خدمات کے لیے جذبات ہمیں بھی، ان کے فرزند ہونے کے ناطے، یہاں لے آئے۔ ہماری قوم اربکان ہُوجّم سے محبت کرتی ہے، ان کی خدمات کو یاد رکھتی ہے، ان کی یاد میں فکریں محسوس کرتی ہے اور ہمیں بطور ان کے فرزند اعتماد اور حمایت دیتی ہے۔ اسی لیے ہمیں بھی بے حد خوشی ہے اور دعا ہے کہ ہم ان کی محبت، اعتماد اور حمایت کے لائق ثابت ہوں۔ڈاکٹر فاتح نے جماعت اسلامی کے ساتھ تعلقات کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ مرحوم مولانا مودودی صاحب، اور ان کے ہمراہ قاضی حسین احمد اُستاز کے ساتھ اربکان ہُوجّم کے تعلقات نہایت مضبوط تھے۔

انہوں نے ایک دوسرے کو بھرپور تعاون دیا اور جماعتِ اسلامی اور ترکیہ میں ملی نظریہ تحریک (Milli Görüş Hareketi) کے تعلقات کئی سالوں تک مضبوطی کے ساتھ جاری رہے۔ آج ہم بھی اُستاز نجم الدین اربکان کے راستے پر چلتے ہوئے پاکستان میں موجود ہیں اور یہاں کے جماعتِ اسلامی کے اراکین، رہنماؤں اور بھائیوں کے ساتھ اپنے تعلقات کو برقرار رکھ رہے ہیں۔ آئندہ بھی ان تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کی کوشش کریں گے۔انہوں نے کہا کہ جب ہمیں یہاں کانفرنس کے مرکزی موضوع کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ عادلانہ عالمی نظام پر ہے، تو ہمارے ذہن میں مرحوم نجم الدین اربکان ہُوجّم آئے۔ انہوں نے 1969 میں ترکیہ میں سیاسی تحریک شروع کرنے کے بعد سب سے پہلے یہی کہا تھا: "عادل ترکیہ اور عادلانہ دنیا”۔ اسی لیے یہاں، عادلانہ عالمی نظام کے موضوع پر منعقدہ اجلاس یا اجتماع میں شامل ہونا ہمارے لیے بہت بڑی خوشی کی بات ہے۔ اور ہمیں یقین ہے کہ جماعتِ اسلامی اور دیگر مسلم ممالک میں موجود اسلامی تحریکوں کے ساتھ ترکیہ میں ملی نظریہ تحریک کے تعلقات اور تعاون جاری رہنا چاہیے۔

ڈاکٹر فاتح کا کہنا تھا کہ پاکستانی بھائیوں نے ترکیہ کی آزادی کی جنگ، یعنی استقلال جنگ کے دوران، جب یورپی ممالک آئے اور ترکیہ، اناطولیہ کی زمینوں پر قبضہ کرنے کی کوشش کی، تو انہوں نے ہمارا ساتھ دیا۔ انہوں نے ہمیں اپنا سونا اور کنگن بیچ کر بھیجا اور وہاں ہماری جدوجہد، ہماری جنگ میں ہمارے ساتھ کھڑے رہے۔ تاریخ سے، جیسا کہ آپ نے بھی کہا، ہمارے تعلقات بہت قدیم ہیں۔ اسی لیے مستقبل میں بھی یہ تعلقات مزید مضبوط ہو کر جاری رہنا نہایت اہم ہے۔اسی مقصد کے لیے، اربکان ہُوجّم نے اپنے دورِ وزارتِ عظمیٰ میں 1997 میں ڈی ۸ (ترقی پذیر ۸ ممالک) تنظیم قائم کی تھی۔

ڈی ۸ کے اراکین میں پاکستان اور ترکیہ بھی شامل ہیں۔ اس تنظیم کو مزید فعال اور مضبوط بنانے، اور اس کے مقاصد تک پہنچانے کے لیے پاکستان اور ترکیہ کی حکومتوں کو مشترکہ طور پر کام کرنا چاہیے۔ ہمیں بھی، بطور اسلامی تحریکیں، اپنی حکومتوں کو اس کی ترغیب دینی چاہیے اور انہیں اس کی طرف راغب کرنا چاہیے ۔

Read Previous

آذربائیجان اور پاکستان کے درمیان اقتصادی تعاون بڑھانے پر اتفاق، اسحاق ڈار اور میکائل جباروف کی اہم ملاقات

Read Next

یو اے ای روزانہ 500 پاکستانیوں کے ویزے پراسیس کر رہا ہے، ای ویزا اور آن لائن سسٹم مزید وسعت اختیار کر گیا

Leave a Reply