صدرِ ترکیہ رجب طیب ایردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے فون پر بات چیت میں کہا کہ ترکیہ واشنگٹن کے ساتھ تعاون کو فروغ دینے کا خواہاں ہے، اور شام میں جنگ بندی کے مکمل نفاذ کے ساتھ ساتھ غزہ میں انسانی بحران ختم کرنے کی کوششوں میں زیادہ تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔ یہ معلومات صدراتی مواصلات کے ڈائریکٹوریٹ کی جانب سے جاری بیان میں دی گئی ہیں۔
اس فون کال میں سیکورٹی، خطے میں استحکام اور انسانی ہمدردی کے امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ایردوآن نے کہا کہ ترکیہ امریکہ کے ساتھ تعاون کو مضبوط کرنے کے اقدامات جاری رکھے گا اور دونوں ممالک کے مفاد میں تعلقات کے تمام شعبوں میں پیش رفت ضروری ہے۔
صدر نے شام کے حوالے سے ترکیہ اور امریکہ کے درمیان مستقل رابطے اور تعاون پر زور دیا اور کہا کہ جنگ بندی اور انضمام کے معاہدے کے مکمل نفاذ کی ترکیہ کتنی اہمیت دیتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انقرہ اس عمل کی نگرانی امریکہ اور شامی فریقین کے ساتھ مشترکہ طور پر کر رہا ہے۔
ایردوآن نے غزہ کے امن بورڈ کے کام کی بھی تعریف کی اور امید ظاہر کی کہ یہ ادارہ اہم پیش رفت میں مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ غزہ میں انسانی بحران ختم کرنا اور دوبارہ تعمیر کے اقدامات شروع کرنا خطے میں پائیدار امن قائم کرنے کے لیے لازمی ہیں۔
جنوری کے شروع میں، وائٹ ہاؤس نے غزہ کے انتظام کے لیے نیشنل کمیٹی کی منظوری کے ساتھ امن بورڈ کے قیام کا اعلان کیا تھا، جو عارضی انتظامی مراحل کے لیے چار باڈیوں میں سے ایک ہے۔ اس بورڈ کے قیام کے موقع پر جنگ بندی کے دوسرے مرحلے کا آغاز بھی کیا گیا، جس نے اسرائیل کی غزہ پر جارحانہ جنگ کو روک دیا۔ اس جنگ میں اکتوبر 2023 سے اب تک 71,000 سے زائد افراد ہلاک اور 171,000 سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
یہ اقدام امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی منصوبے کا حصہ ہے، جسے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے گذشتہ نومبر میں قرارداد 2803 کے تحت منظور کیا۔ ترکیہ اس اقدام کو غزہ اور خطے میں دیرپا امن و استحکام لانے کی عالمی کوششوں کا حصہ سمجھتا ہے۔
بیان کے مطابق، بات چیت میں دوطرفہ تجارت، دفاعی صنعت میں تعاون اور خطے کی موجودہ صورتحال پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
