ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے اتوار کے روز امریکہ، خلیجی اور یورپی رہنماؤں سے سلسلہ وار ٹیلیفونک رابطے کیے اور ایران پر امریکہ۔اسرائیل حملوں کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا۔
ترک ایوانِ صدر کے مطابق صدر ایردوان نے ہفتے کو ایران کے خلاف شروع کی گئی فوجی کارروائی اور اس کے بعد کی پیش رفت پر عالمی رہنماؤں سے گفتگو کی۔ اس کارروائی میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای اور متعدد اعلیٰ فوجی کمانڈروں کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی تھیں۔
صدر ایردوان نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے گفتگو میں ایران اور خلیجی خطے کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور جاری پیش رفت کا جائزہ لیا۔ انہوں نے قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی سے بھی رابطہ کیا اور قطر پر ہونے والے حملوں کے بعد نیک تمناؤں کا اظہار کیا۔ اسی طرح انہوں نے متحدہ عرب امارات کے صدر شیخ محمد بن زاید آل نہیان اور سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے گفتگو میں ان کے ممالک کو نشانہ بنائے جانے والے حملوں پر افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا۔
سعودی ولی عہد سے گفتگو کے دوران صدر ایردوان نے خبردار کیا کہ اگر ضروری اقدامات نہ کیے گئے تو موجودہ تنازع سنگین علاقائی اور عالمی سلامتی کے نتائج کا سبب بن سکتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ ترکیہ اور سعودی عرب نے مسائل کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے کی سنجیدہ کوشش کی ہے اور سفارت کاری کو موقع دینا ہی سب سے معقول راستہ ہے۔
صدر ایردوان نے کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح سے بھی ٹیلیفون پر رابطہ کیا اور کویت پر حملوں پر افسوس کا اظہار کیا۔ یورپی کمیشن کی صدر ارسولا فون ڈیر لائن سے گفتگو میں انہوں نے ایران پر حملوں اور اس کے بعد کی صورتحال پر تبادلۂ خیال کیا اور تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ مذاکرات اور سفارتی عمل کی طرف واپس آئیں۔
یہ سفارتی سرگرمیاں ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب امریکہ۔اسرائیل کی کارروائی تیسرے روز میں داخل ہو چکی ہے، جبکہ ایران کی جانب سے خلیجی ممالک اور امریکی مفادات پر ڈرون اور میزائل حملوں کی اطلاعات ہیں، جن میں تین امریکی اہلکاروں کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے
