turky-urdu-logo

صحافیوں پر جاری ظلم و ستم پر خاموش رہنے والوں کو کسی اور مسئلے پر بات کرنے کا کوئی حق نہیں،صدر ایردوان

صدر ایردوان کا کہنا ہے کہ اسرائیل نہ صرف غزہ میں خواتین اور بچوں کو نشانہ بنا رہا ہے بلکہ مشکل حالات میں کام کرنے والے صحافیوں کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

صدر ایردوان نے استنبول میں TRT ورلڈ فورم 2023 سے خطاب میں کہا کہ عالمی میڈیا  غزہ میں ہونے والی بربریت کو چھپانے اور حماس کے بہانے صحافیوں کے قتل عام کو جائز قرار دینے کی کوشش کر رہے ہیں۔

انہوں نے 7 اکتوبر سے غزہ پر اسرائیل کے حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید کہا کہ اب تک 17 ہزار سے زیادہ جانیں ضائع ہو چکی ہیں، جن میں سے زیادہ ترخواتین اور بچے ہیں۔

انکا کہنا تھا کہ ہر روز ایک صحافی کو قتل کیا جا رہا ہے، پھر بھی ان اداروں کی طرف سے جو برسوں سے آزادی صحافت کے بارے میں تبلیغ کر رہے ہیں کوئی اقدامات نظر نہیں آرہے۔

غزہ کے بارے میں درست طور پر رپورٹنگ کرنے اور دنیا کو ایک مہلک محاصرے کے تحت وہاں کے حقیقی حالات دکھانے پر ترک ذرائع ابلاغ کی تعریف کرتے ہوئے صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ  میں TRT، Anadolu اور ہمارے دیگر میڈیا اداروں کو مبارکباد دینا چاہوں گا جنہوں نے غزہ کے موجودہ حالات سے دنیا کو آگاہ کیا ہے۔

صدر ایردوان کا کہنا تھا کہ غزہ میں 70 سے زیادہ صحافی مارے جا چکے ہیں،انکا کہنا تھا کہ دنیا کی معروف پریس کہاں ہے؟ وہ قتل ہونے والے صحافیوں کے بارے میں سرخیاں کیوں نہیں شائع کرتے؟

 

Read Previous

ترکیہ غزہ میں نسل کشی کا فوری خاتمہ اور قصورواروں کو سزا دینا چاہتا ہے،صدر ایردوان

Read Next

How do you Use the Word” Beautiful” in Ukrainian?

Leave a Reply