turky-urdu-logo

ترکیہ کے ‘یوم ظفر’ پر صدر رجب طیب ایردوان کا پیغام

پیارے شہریو، معزز مہمانانِ گرامی،میں آپ سب کو دلی جذبات، گہری محبت اور احترام کے ساتھ سلام پیش کرتا ہوں۔ہم بڑے فخر، جوش اور ولولے کے ساتھ عظیم فتح کی 103 ویں سالگرہ منا رہے ہیں، جو ہماری روشن ترین داستانوں میں سے ایک ہے، جسے ہماری بہادر افواج اور ہماری عظیم قوم نے قربانی، ایمان، امید اور حوصلے سے تخلیق کیا۔اس اہم دن پر جب ہم نے آزادی کی محبت کو مستقبل کے جذبے سے جوڑا اور اپنی کامیابی کے ساتھ اپنی امیدوں کو تاج پہنایا، میں پوری ترک قوم، ترک قبرصی عوام اور دنیا بھر میں بسنے والے ہمارے 70 لاکھ سے زائد شہریوں کو 30 اگست یومِ ظفر کی دلی مبارکباد پیش کرتا ہوں۔میں ان تمام مہمانان کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ہمارے غیر ملکی مشنز کی تقاریب میں شرکت کر کے ہماری خوشیوں اور جذبات کو ہمارے ساتھ بانٹا۔عظیم حملہ، جو آزادی کی جنگ کے نہایت مشکل دنوں میں اس مقصد سے شروع کیا گیا کہ قبضے اور ظلم و ستم کا خونی سایہ ہمارے وطن سے ختم کیا جائے، 30 اگست 1922 کو جنگِ کمانڈر اِن چیف میں عظیم فتح کے ساتھ اختتام پذیر ہوا۔یہ عظیم فتح ہماری قوم کے عزت، آزادی اور وقار کی خواہش کا مظہر تھی اور نجات کے اُس کٹھن راستے کا سنگِ منزل تھی جس پر ہم نے تلوار کی دھار پر چل کر سفر کیا۔اسی فتح کے نتیجے میں سامراجی افواج کو اناطولیہ سے پسپا کیا گیا، ظالمانہ محاصرہ ٹوٹا، اور ہماری قوم کے غلامی نہ ماننے والے عزم کی گونج پوری دنیا میں سنائی دی۔ہمارے شہداء اور غازیوں کی دی ہوئی قربانیوں نے ایک بار پھر جارحین کی خفیہ سازشوں کو ناکام بنایا۔غازی مصطفی کمال اتاترک نے کہا تھا کہ 30 اگست کی فتح کے تین بنیادی عناصر ہماری قوم، ہماری قوم کا عزم، اور ہماری بہادر فوج تھی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ دشمن کے خلاف سب سے مضبوط دفاعی مورچہ وہ ”اندرونی محاذ“ تھا جو قوم اور وطن نے مل کر قائم کیا۔ان نازک دنوں میں جب ہم تیزی سے صدیِ ترکیہ کے کامیاب اور روشن دور کی طرف بڑھ رہے ہیں، ہمارا مقصد اپنی سرزمین سے دہشت گردی کے اُس سائے کو مکمل طور پر ختم کرنا ہے جس نے ہمیں نصف صدی سے جکڑ رکھا ہے۔ہم سب کے سب، 8 کروڑ 60 لاکھ شہری، امن، خوشحالی اور فلاح کے ایک ترکیہ کی تعمیر کے لیے مل جل کر کام کر رہے ہیں۔اپنے 86 ملین شہریوں کے اتحاد کے ساتھ، ہم ان شاء اللہ اس بابرکت منزل تک پہنچیں گے، جہاں نہ حسد ہو گا نہ دشمنی، اور ہمارے دل امن و سکون کے ستاروں سے منور ہوں گے۔دوسری جانب، ہم ایک تاریک دور سے گزر رہے ہیں، جس میں ہمارے خطے کی سرحدیں خون سے دوبارہ کھینچی جا رہی ہیں، اور گزشتہ صدی کے سب سے وحشیانہ اور غیر انسانی قتلِ عام ہمارے پڑوس میں، خاص طور پر غزہ اور فلسطین میں ہو رہے ہیں۔ہمیں یقین ہے کہ جو لوگ معصوموں کے خون میں اپنی سلامتی اور خوشحالی تلاش کر رہے ہیں، وہ اپنے مقاصد میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔ وہ اپنی تباہ کن، قابض اور نسل کش پالیسیوں کا حساب پہلے قانون کے کٹہرے میں اور پھر تاریخ کے سامنے ضرور دیں گے۔ہمارے فلسطینی بھائی اور بہنیں، جنہوں نے گزشتہ 80 برسوں سے مسلسل حملوں کے باوجود اپنی سرزمین کو نہیں چھوڑا، ان شاء اللہ ہمیشہ اپنی آبائی سرزمین پر قائم رہیں گے، جہاں وہ صدیوں سے رہتے آئے ہیں۔جیسا کہ ہم نے اپنی ہزاروں سالہ تاریخ میں ہمیشہ کیا ہے، ترکیہ آج بھی اور کل بھی مظلوموں کے ساتھ اور ظالموں کے خلاف ڈٹ کر کھڑا رہے گا۔ ہم انسانیت کے حق میں انصاف اور سچائی کو برقرار رکھنے میں کبھی ہچکچاہٹ کا شکار نہیں ہوں گے۔میں اُن تمام افراد کا شکر گزار ہوں جنہوں نے غزہ میں ہونے والے مظالم پر خاموشی اختیار نہیں کی، چاہے اس کے بدلے انہیں کوئی قیمت ہی کیوں نہ ادا کرنا پڑی ہو۔میں دنیا کے تمام با ضمیر افراد سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ ہمارے خطے میں پائیدار امن و استحکام کے قیام کے لیے ”انسانیت کے محاذ“ پر یکجا ہوں۔ان خیالات کے ساتھ، میں عظیم حملے کے کمانڈر اِن چیف غازی مصطفی کمال اتاترک اور ان کے رفقائے کار کو عقیدت کے ساتھ یاد کرتا ہوں۔ میں اپنے ان عظیم شہداء کے لیے اللہ کی رحمت کی دعا کرتا ہوں جنہوں نے اپنی جانیں وطن، پرچم، اور قوم کی آزادی و مستقبل کے لیے قربان کیں۔ میں اپنے تمام غازیوں کو احترام کے ساتھ یاد کرتا ہوں۔میں ایک بار پھر آپ سب کو محبت اور احترام کے ساتھ سلام پیش کرتا ہوں۔یومِ ظفر مبارک ہو۔رجب طیب ایردوان صدر جمہوریہ ترکیہ

Read Previous

ترکیہ قابض افواج پر فتح کی 103ویں سالگرہ منا رہا ہے

Read Next

ترک سفارتخانہ اسلام آباد میں یومِ ظفر کی تقریب، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جنرل ساحر شمشاد کی بطور مہمانِ خصوصی شرکت

Leave a Reply