صدر ایردوان نے کویت کے امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح کا دارالحکومت انقرہ کے ایسنبوگا ائیر پورٹ پر ایک سرکاری تقریب کے ساتھ استقبال کیا۔
بعد ازاں صدر ایردوان اور کویتی امیر شیخ مشعل الاحمد الجابر الصباح نے ون آن ون ملاقات کے دوران فلسطین پر اسرائیل کے حملوں اور دو طرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کیا۔
صدر ایردوان کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جبر کے خلاف کویت کا مؤقف اہم ہے کیونکہ یہ موقف فلسطینی کاز کو تقویت دیتا ہے
صدر ایردوان نے کہا کہ انقرہ گزشتہ اکتوبر میں تنازع کے آغاز سے ہی دیرپا جنگ بندی کے قیام کے لیے کوششیں کر رہا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ عالم اسلام کو ایک آزاد، خودمختار اور جغرافیائی طور پر ملحقہ فلسطینی ریاست کے قیام کے لیے مل کر کام کرنا چاہیے جس کا دارالحکومت 1967 کی سرحدوں پر مشرقی یروشلم میں ہو۔
دورے کے دوران ترکیہ اور کویت کے مابین 6 معاہدوں پر دستخط بھی کیے گئے جن میں سرمایہ کاری کے فروغ ، فری زونز، ہاوسنگ ویلفیئر اور انفرا اسٹرکچر، ڈیزاسٹر اینڈ ایمرجنسی مینجمنٹ ،مشترکہ اسٹریٹجک ڈائیلاگ کے قیام اور دفاعی صنعت کی مضبوطی کے معاہدے شامل ہیں۔
دستخط کی تقریب ترک دارالحکومت کے صدرتی کمپلیکس میں ون آن ون اور وفود کی سطح پر ہونے والے ملاقاتوں کے بعد ہوئی ۔
واضح رہے کہ صدر ایردوان نے دسمبر میں چارج سنبھالنے والے شیخ مشعل کو آرڈر آف اسٹیٹ میڈل سے بھی نوازا۔
یہ دورہ سفارتی تعلقات کی 60 ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کیا گیا ہے۔
یہ سات سال کے وقفے کے بعد کویت سے ترکیہ کے امیر کی سطح پر پہلا دورہ ہے
کویتی امیر کا ترکیہ کا دورہ عرب دنیا سے باہر انکا پہلا سرکاری دورہ ہے
