خاتونِ اول امینہ ایردوان نے استنبول میں 22 نئی قائم شدہ اسکول لائبریریوں کی افتتاحی تقریب میں شرکت کرتے ہوئے جدید لائبریریوں کے کردار کو ترکیہ کے ثقافتی، فکری اور تعلیمی نظام کے لیے نہایت اہم قرار دیا۔
یہ تقریب اسکودر کی مہرِ ماہ سلطان گرلز اناتولین امام خطیب ہائی اسکول میں منعقد ہوئی، جو سماجی ترقی، تعلیم اور سماجی معاونت ایسوسی ایشن (TOGEMDER) کے تحت جاری “22 اسکولوں کے لیے 22 لائبریریاں” منصوبے کا حصہ ہے۔ امینہ ایردوان اس تنظیم کی اعزازی چیئرپرسن ہیں۔
اپنے خطاب میں انہوں نے کہا کہ صدارتی قومی لائبریری نے ترکیہ میں لائبریری کے تصور کو ایک نئی جہت دی ہے اور انہیں محض کتابوں کے ذخیرے سے نکال کر فعال علمی مراکز میں تبدیل کیا ہے۔ ان کے مطابق اس جدید وژن کے تحت لائبریریاں معاشرے کی ثقافتی زندگی کو فروغ دینے اور اسے آگے بڑھانے کا مؤثر ذریعہ بن رہی ہیں۔
امینہ ایردوان نے کہا کہ لائبریریاں اب وہ مقامات نہیں رہیں جہاں کتابیں محض شیلفوں میں رکھی ہوں، بلکہ یہ زندہ اور متحرک جگہیں ہیں جو مطالعے، تحقیق اور فکری جستجو کو فروغ دیتی ہیں۔ انہوں نے اس منصوبے کے تحت قائم کی گئی 22 اسکول لائبریریوں کو “سنچری آف ترکیہ” کے ہدف کے حصول میں اہم قدم قرار دیا۔
انہوں نے TOGEMDER کو اس اقدام پر مبارکباد دیتے ہوئے اسے سماجی ذمہ داری کے جذبے سے سرشار ایک مثالی فلاحی تنظیم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ تنظیم نے گزشتہ برسوں میں خوراک، ایندھن، کپڑوں اور گھریلو سامان کی فراہمی سے لے کر ہزاروں طلبہ کو وظائف دینے تک متعدد سماجی خدمات انجام دی ہیں۔
انہوں نے وزارتِ قومی تعلیم کے ساتھ مشترکہ منصوبوں کا بھی ذکر کیا، جن میں ابتدائی بچپن کی تعلیم، صحت مند تعلیمی ماحول، ابتدائی تشخیص پروگرام اور ماحولیاتی شعور اجاگر کرنے کے لیے پائیدار کمیونٹی مارکیٹس جیسے اقدامات شامل ہیں۔
تعلیم کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے امینہ ایردوان نے اسکول لائبریریوں کو تعلیمی اداروں کا “دل اور روح” قرار دیا۔ ان کے مطابق معیاری لائبریریوں سے آراستہ اسکول تعلیم کو نصاب تک محدود رکھنے کے بجائے اسے زندگی بھر جاری رہنے والا عمل بنا دیتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارا مقصد طلبہ کو صرف معلومات فراہم کرنا نہیں بلکہ انہیں سیکھنے کا ہنر سکھانا ہے۔ خود تعلیم حاصل کرنے کی صلاحیت دراصل آزادی کی ایک شکل ہے، اور جو طلبہ لائبریریوں سے مضبوط تعلق قائم کرتے ہیں وہ تخلیقی، پیداواری اور تنقیدی سوچ رکھنے والے شہری بنتے ہیں۔
امینہ ایردوان نے اس بات پر بھی زور دیا کہ اسکول لائبریریاں مساوی مواقع اور سماجی انصاف کے فروغ کا ذریعہ ہیں کیونکہ یہ تمام طلبہ کے لیے بلا امتیاز دستیاب ہوتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ ہر نئی قائم کی گئی لائبریری میں کم از کم چار ہزار کتابیں موجود ہیں اور انہیں ورکشاپس، مذاکروں اور مصنفین سے ملاقات جیسے پروگراموں کے ذریعے ایک فعال سماجی و فکری مرکز کے طور پر ڈیزائن کیا گیا ہے۔
تقریب کے اختتام پر امینہ ایردوان نے طلبہ کو تلقین کی کہ وہ اپنی لائبریریوں کو متحرک رکھیں، مطالعہ گروپس قائم کریں اور “لائبریری سفیر” بن کر دوسروں کو بھی کتابوں سے جڑنے کی ترغیب دیں۔
