آذربائیجان کے خود مختار علاقے نخچیوان میں ڈرون حملے کے بعد جنوبی قفقاز میں سفارتی کشیدگی بڑھ گئی ہے، جبکہ اس واقعے کے اصل ذمہ دار کے بارے میں صورتحال اب بھی واضح نہیں ہو سکی۔
آذربائیجان کے مطابق 5 مارچ کو دوپہر کے وقت دو ڈرون نخچیوان میں گرے۔
ایک ڈرون نخچیوان انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے ٹرمینل سے ٹکرایا جبکہ دوسرا شکرآباد گاؤں میں ایک اسکول کے قریب گرا۔
اس واقعے میں ایئرپورٹ کی عمارت کو نقصان پہنچا اور دو شہری زخمی ہوئے۔
واقعے کے بعد آذربائیجان کے صدر الہام علییف نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ آذربائیجان اپنی خودمختاری پر حملے کو برداشت نہیں کرے گا اور ملک مناسب جوابی اقدامات کا حق محفوظ رکھتا ہے۔
آذربائیجان کی وزارت خارجہ نے ایران پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ یہ حملہ ایران کی سرزمین سے کیا گیا اور اسے بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ایران کے سفیر کو طلب کر کے احتجاج ریکارڈ کرایا گیا۔
اس واقعے پر ترکیہ کی وزارت خارجہ نے بھی بیان جاری کرتے ہوئے آذربائیجان کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور شہری تنصیبات پر حملے کی مذمت کی۔
دوسری جانب پاکستان کی وزارت خارجہ نے بھی اس صورتحال پر تشویش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان خطے میں کشیدگی کے بڑھنے پر فکر مند ہے اور آذربائیجان کے ساتھ برادرانہ تعلقات اور یکجہتی کا اعادہ کرتا ہے۔
تاہم بعد ازاں ایران نے ان الزامات کو مسترد کر دیا۔

ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ ایران نے آذربائیجان پر کوئی ڈرون حملہ نہیں کیا اور اس معاملے کی حقیقت سامنے لانے کے لیے تحقیقات ضروری ہیں۔
کچھ ایرانی ذرائع اور تجزیہ کاروں نے یہ امکان بھی ظاہر کیا ہے کہ یہ واقعہ “اسرائیلی فالس فلیگ آپریشن” ہو سکتا ہے جس کا مقصد ایران اور آذربائیجان کے درمیان کشیدگی کو بڑھانا ہے۔

اس تمام صورتحال کے بعد نخچیوان ایئرپورٹ پر ہونے والا ڈرون حملہ اب ایک بڑا علاقائی معمہ بن چکا ہے اور خطے کی سیاست میں ایک نئی بحث کو جنم دے رہا ہے۔
