استنبول میں چغتائی آرٹ ایوارڈز 2025 کی پروقار تقریب منعقد ہوئی، جس کا موضوع تھا: “پاکستان-ترکیہ: دو ریاستیں، ایک قوم”۔ یہ مقابلہ پاکستان کے نامور مصور عبدالرحمٰن چغتائی کے نام سے منسوب ہے اور 2011 سے ہر سال پاکستان سفارتخانہ ترکیہ کے زیرِ اہتمام منعقد کیا جا رہا ہے۔تقریب کے مہمانِ خصوصی پاکستان کے سفیر ڈاکٹر یوسف جنید اور استنبول کے نائب گورنر مہمت سُلون تھے۔


اس موقع پر ترک وزارتِ تعلیم کے نمائندے، فاتیح بلدیہ کے نائب میئر سمیت ترک حکام اور تعلیمی اداروں کی شخصیات نے بھی شرکت کی۔اپنے خطاب میں پاکستانی سفیر ڈاکٹر یوسف جنید نے کہا:”پاکستان اور ترکیہ کے تعلقات مشترکہ اقدار، باہمی احترام اور یکساں امنگوں پر مبنی ہیں۔ اس سال کا موضوع ان تعلقات کی وحدت اور یکجہتی کی بہترین عکاسی کرتا ہے۔ فن ایسا طاقتور ذریعہ ہے جو دلوں کو جوڑتا ہے، سرحدوں سے آگے لے جاتا ہے اور عوام کو قریب لاتا ہے۔”استنبول کے نائب گورنر مہمت سُلون نے اپنے تاثرات کا اظہار کرتے ہوئے کہا:”پاکستان اور ترکیہ کے درمیان تاریخی، ثقافتی اور برادرانہ رشتے ہیں۔


نوجوانوں کی شمولیت اور ثقافتی ہم آہنگی وہ ستون ہیں جو ہمارے تعلقات کو مزید مستحکم کرتے ہیں۔”اس سال کی پہلی پوزیشن حاصل کی الیف زوہیلا اتایشین نے، جو تُزلا محمت تکیرالپ انادولو لائسسی کی طالبہ ہیں۔دوسری پوزیشن زینپ آقچان (شہید یوزباشی یوسف کینان MTL) اور تیسری پوزیشن ایلا یلدان (گؤکسل بکتاغیر GSL) نے حاصل کی۔مزید برآں، سارہ المحمد علی (بہاتین یلدیز انادولو لائسسی)، زہرہ اسیا کیسکین (چاطالجا فن لائسسی) اور صرہ دا المونتہا آراچ (بہاتین یلدیز انادولو لائسسی) کو تعریفی اسناد (Mansiyon) دی گئیں۔

یہ ایوارڈ مقابلہ ماضی میں انقرہ، قونیہ، بُرسا، بیتلیس، ادانہ اور ازمیر میں بھی کامیابی کے ساتھ منعقد ہو چکا ہے۔ اس مرتبہ استنبول نے اس روایت کو مزید شاندار انداز میں آگے بڑھایا اور پاکستانی و ترک طلبہ کے فن پاروں نے دونوں ممالک کی ثقافتی قربت کو مزید اجاگر کیا۔چغتائی آرٹ ایوارڈز ایک بار پھر اس حقیقت کا ثبوت بنے کہ پاکستان اور ترکیہ صرف دو ریاستیں نہیں بلکہ ایک ہی قوم کی مانند ہیں۔
