turky-urdu-logo

چین کی جانب سے ایران کو فضائی دفاعی نظام فراہم کرنے کی ممکنہ رپورٹ،چین اور امریکہ آمنے سامنے

امریکی انٹیلی جنس رپورٹ کے مطابق چین آئندہ چند ہفتوں میں ایران کو جدید فضائی دفاعی نظام فراہم کر سکتا ہے، تاہم بیجنگ نے ان دعوؤں کو مسترد کرتے ہوئے انہیں بے بنیاد قرار دیا ہے۔

بین الاقوامی میڈیا رپورٹس میں امریکی انٹیلی جنس ذرائع کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ حالیہ دو ہفتوں کی جنگ بندی کے باوجود ایران اپنے دفاعی نظام کو دوبارہ مضبوط بنانے کی کوشش کر رہا ہے، جس میں مبینہ طور پر بعض بین الاقوامی شراکت داروں کی مدد بھی شامل ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین ممکنہ طور پر ایران کو کندھے پر نصب کیے جانے والے اینٹی ایئرکرافٹ میزائل (MANPADS) فراہم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو کم بلندی پر پرواز کرنے والے طیاروں کے لیے خطرہ تصور کیے جاتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق ان ہتھیاروں کی ترسیل کو تیسرے ممالک کے ذریعے چھپانے کی کوشش کی جا رہی ہے تاکہ ان کے اصل ماخذ کی شناخت نہ ہو سکے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ نظام سابقہ جنگی حالات میں بھی مؤثر ثابت ہوئے تھے اور اگر جنگ بندی ختم ہوتی ہے تو دوبارہ خطرہ بن سکتے ہیں۔

دوسری جانب واشنگٹن میں چینی سفارت خانے کے ترجمان نے ان الزامات کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ چین نے کبھی بھی اس تنازع کے کسی فریق کو ہتھیار فراہم نہیں کیے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ چین ایک ذمہ دار عالمی طاقت کے طور پر اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرتا ہے اور امریکہ کو چاہیے کہ وہ بے بنیاد الزامات، اشتعال انگیز بیانات اور غلط تاثر پیدا کرنے سے گریز کرے۔

ترجمان نے مزید کہا کہ تمام فریقین کو کشیدگی بڑھانے کے بجائے خطے میں امن اور استحکام کے لیے مثبت کردار ادا کرنا چاہیے۔

یاد رہے کہ حالیہ دو ہفتوں کی جنگ بندی بدھ کے روز نافذ ہوئی تھی، جو 28 فروری سے شروع ہونے والی شدید لڑائی کے بعد ممکن ہوئی۔ اس تنازع کے دوران ہزاروں افراد جان سے گئے جبکہ خطے کی اہم تجارتی گزرگاہ آبنائے ہرمز بھی شدید متاثر ہوئی۔

بین الاقوامی تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ جنگ بندی نافذ ہے، لیکن خطے میں اسلحے کی ممکنہ ترسیل اور بڑھتی ہوئی سفارتی کشیدگی اس امن عمل کے لیے ایک نیا چیلنج بن سکتی ہے۔

Read Previous

پاکستان میں امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی مذاکرات شروع، امریکہ ایران مذاکرات اسلام آباد میں جاری

Read Next

ایک ملک کے دو چہرے: پوپ اور ٹرمپ ایران جنگ پر متضاد مؤقف کے ساتھ آمنے سامنے

Leave a Reply