turky-urdu-logo

صدر رجب طیب ایردوان کا جنگ بندی پر خیرمقدم، پاکستان کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا

ترکیہ نے 28 فروری سے جاری خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے بعد اعلان کردہ جنگ بندی کا باضابطہ خیرمقدم کرتے ہوئے اسے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دیا ہے۔ ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان کے مطابق یہ جنگ بندی اس وقت سامنے آئی ہے جب علاقہ مسلسل تنازع، تناؤ اور عدم استحکام کا شکار تھا، اور اس سے امید پیدا ہوئی ہے کہ فریقین تصادم کے بجائے مکالمے کی طرف بڑھیں گے۔

انقرہ نے اپنے بیان میں زور دیا کہ جنگ بندی کا اصل امتحان اس کے عملی نفاذ میں ہے، اور ضروری ہے کہ زمینی سطح پر تمام فریقین اسے مکمل طور پر برقرار رکھیں تاکہ کسی بھی قسم کی اشتعال انگیزی، غلط فہمی یا تخریب کاری کے امکانات کو روکا جا سکے۔ ترکیہ نے خبردار کیا کہ اگر جنگ بندی پر سنجیدگی سے عمل نہ کیا گیا تو صورتحال دوبارہ کشیدہ ہو سکتی ہے، اس لیے تمام متعلقہ فریقین کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

بیان میں ترکیہ نے جنگ بندی کے قیام میں کردار ادا کرنے والے تمام ممالک اور سفارتی کوششوں کو بھی سراہا، اور خاص طور پر برادر ملک پاکستان کی کاوشوں کو قابلِ تحسین قرار دیا۔ ترک حکام کے مطابق پاکستان نے اس عمل میں مثبت اور تعمیری کردار ادا کیا، جس سے فریقین کے درمیان اعتماد بحال کرنے میں مدد ملی اور جنگ بندی کی راہ ہموار ہوئی۔

ترکیہ نے اس امید کا بھی اظہار کیا کہ وہ خطہ جو طویل عرصے سے جنگ، تنازع، کشیدگی اور بدامنی سے متاثر رہا ہے، جلد امن، استحکام اور سکون کی طرف واپس لوٹے گا۔ انقرہ کے مطابق خطے کے عوام پائیدار امن کے مستحق ہیں اور عالمی برادری کو بھی اس مقصد کے لیے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔

مزید برآں، ترکیہ نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ وہ نہ صرف اپنے خطے بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا اور ہر اس اقدام کی حمایت کرے گا جو تنازعات کے پرامن حل کی طرف لے جائے۔

Read Previous

ترکیہ میں منشیات اور غیر قانونی جوئےکے خلاف بڑا کریک ڈاؤن،جرائم کے خاتمے کے لیے ریاستی ادارے متحرک

Read Next

پاکستان میں سعودی سفیر نواف بن سعید المالک سے چئیرمین ہائی ایجوکیشن کمیشن ڈاکٹر نیاز احمد کی ملاقات

Leave a Reply