رپورٹ: شبیر احمد
مشرقی اور مغربی یورپ کے درمیان اور کیسپئن سمندر کے سنگھم پر واقع آذربائیجان کے صدر الہام علیوف کے دو روزہ دورہ پاکستان کے دوران اسلام آباد اور باکو کو جڑواں شہر قرار دیا گیا ہے۔دورے کے دوران اسلام آباد کی سڑکوں کو پاکستان اور آذربائیجان کے جھنڈوں سے سجایا گیا تھا جس سے "دو ریاستیں اور ایک قوم” کا تصور عیاں تھا ۔ گزشتہ روز پاکستان کی فضائی حدود میں داخل ہونے پر الہام علیوف کے طیارے کا پاکستانی فضائیہ کے لڑاکا طیاروں نے استقبال کیا اور اسے چاروں طرف سے حفاظتی حصار میں لیا۔
اپنے دورے کے دوران الہام علیوف نے صدر پاکستان آصف علی زرداری اور وزیر اعظم شہباز شریف سے ملاقات کی۔ انہوں نے دارالحکومت کے وسط میں واقع پاکستان مانومنٹ کا بھی دورہ کیا۔ اس سے قبل، وزیر اعظم شہباز شریف نے انہیں ازبکستان کے دارالحکومت آستانہ میں شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے سربراہی اجلاس کے موقع پر پاکستان، آذربائیجان اور ترکیہ کے درمیان سہ فریقی اجلاس کے دوران پاکستان کے دورے کی دعوت دی تھی۔
وزیراعظم شہباز شریف اور الہام علیوف نے دورے کے پہلے روز مشترکہ پریس کانفرنس سے بھی خطاب کیا۔ پاکستان اور آذربائیجان نے دوطرفہ تجارتی تعلقات کو 2 ارب ڈالر تک بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔ دونوں ممالک نے بڑے شعبوں میں 15 معاہدوں پر دستخط کیے ہیں، جن میں تجارت، سیاحت، ٹیکنالوجی، قانون، کان کنی، میڈیا، سائنس، ادب اور دیگر تعاون کے مختلف شعبوں شامل ہیں۔
بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر عثمان شاہد نے ترکیہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ دونوں برادر ممالک کے درمیان جو مفاہمت کی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے ہیں وہ عام اقتصادی نقطہ نظر سے مختلف ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاک آذربائیجان تعلقات عوام کی عوام اور میڈیا سے میڈیا کے درمیان ترقی کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "اس پیش رفت کا سہرا دونوں ممالک کے درمیان سفارتی مشنز کوجاتا ہے”۔
سیاسی ماہر ڈاکٹر جسپال نے ترکیہ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اس دورے کی سیاسی، سفارتی، اور اقتصادی اہمیت ہے۔ اس سے دونوں ممالک کے درمیان تجارت میں اضافہ ہوگا اور ان کے درمیان فوجی تعاون بھی مضبوط ہوگا۔
پاکستان کی علاقائی پالیسی کی وضاحت کرتے ہوئے عثمان شاہد نے کہا کہ ماضی میں پاکستان نے وسطی ایشیائی اور سابق سوویت یونین کے ساتھ منسلک خطوں کو نظر انداز کیا تھا۔ اب پاکستان نے علاقائی پالیسی میں واضح موقف اپنایا ہے تاکہ ان منڈیوں کو تلاش کرکے معیشت اور انفراسٹرکچر کو فروغ دیا جاسکے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان آذربائیجان کے ساتھ مختلف شعبوں میں روابط کا خواہاں ہے جیسا کہ حالیہ پیش رفت اور مصروفیات سے ظاہر ہوتا ہے۔
پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان تعلقات
ڈاکٹر جسپال کہتے ہیں کہ پاکستان اور آذربائیجان کے درمیان ہمیشہ دوستانہ تعلقات رہے ہیں۔ سوویت یونین سے آذربائیجان کی آزادی کے بعد، پاکستان ترکی کے بعد دوسرا ملک تھا جس نے آذربائیجان کو تسلیم کیا۔ اس کے علاوہ آذربائیجان کے ساتھ اظہار یکجہتی کرتے ہوئے پاکستان نے پھر بھی آرمینیا کو تسلیم نہیں کیا۔ دوسری جانب آذربائیجان نے مسئلہ کشمیر پر ہر عالمی فورم پر پاکستان کے موقف کی حمایت کی ہے۔
کشمیر پر اپنے موقف کو دہراتے ہوئے الہام علییف نے مشترکہ میڈیا کانفرنس میں اظہار خیال کیا کہ مسئلہ کشمیر پر ہمارا موقف بہت مضبوط اور معروف ہے۔ ہم جموں و کشمیر کے عوام کے حقوق اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں پر عمل درآمد کی حمایت کرتے ہیں۔
عثمان شاہد نے کہا کہ پاکستان کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا غیرمستقل رکن بنانے کی تین ممالک نے مخالفت کی جن میں سے ایک آرمینیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ پاکستان اب بھی آذربائیجان کے ساتھ تعلقات کی قیمت چکا رہا ہے۔
شعبہ سیاسیات کے پروفیسر ڈاکٹر شبیر احمد خان نے کہا کہ یہ دورہ اس وجہ سے بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان کو آذربائیجان کے ساتھ تجارت کو 100 ملین ڈالر کی کم ترین سطح سے 2 ارب ڈالر تک بڑھانے کا موقع میسر آیا ہے۔انہوں نے کہا کہ وسیع تر شعبوں میں معاہدے اس بات کی عکاس ہے کہ پاکستان اپنی خارجہ پالیسی میں آذربائیجان کو اہمیت دے رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سفارتی سطح پر بہترین تعلقات کے بعد اب دونوں ممالک دیگر شعبوں میں تعاون کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ تاریخی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے پاکستان، ترکیہ اور آذربائیجان کے درمیان سہ فریقی ملاقاتوں کا سلسلہ 2017 میں شروع ہوا جہاں تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ نے باکو میں ملاقات کی۔ تینوں ممالک کے وزرائے خارجہ کا دوسرا اجلاس 2021 میں پاکستان میں ہوا تھا۔ گزشتہ دنوں شنگھائی تعاون تنظیم کے اجلاس کے موقع پر تینوں ممالک کے سربراہان نے آستانہ میں پہلی مرتبہ سہ فریقی اجلاس منعقد کیا ۔
الہام علییف کون ہے؟
الہام علیوف آذربائیجان کے سب سے طویل عرصے تک حکومت کرنے والے صدر ہیں۔ وہ 2003 میں ملک کے دوسرے صدر کے طور پر آذربائیجان کے صدر منتخب ہوئے۔ 2024 میں، وہ مسلسل پانچویں مدت کے لیے منتخب ہوئے ہیں۔ 2016 میں، آذربائیجان کی پارلیمنٹ نے ایک آئینی ترمیم منظور کی، جس میں صدر کی مدت ملازمت کو پانچ سال سے بڑھا کر سات سال کر دیا گیا، جس سے وہ مزید سات سال کے لیے آذربائیجان کے صدر بن گئے۔
الہام علیوف سابق صدر حیدر علیوف کے بیٹے ہیں۔ حیدر علیوف 1993 میں آذربائیجان کے بانی صدر تھے۔ 1994 میں الہام علیوف سرکاری تیل کمپنی کے نائب صدر منتخب ہوئے۔ جولائی 2003 میں جب ان کے والد بیمار ہوگئے تو وہ ملک کے وزیراعظم منتخب ہوئے۔ 2003 کے انتخابات میں وہ بھاری اکثریت سے ملک کے دوسرے صدر منتخب ہوئے۔
جہاں الہام علیوف نے آذربائیجان کو اقتصادی طور پر مضبوط کیا، وہیں اس نے فوجی طاقت میں بھی اضافہ کیا۔ 2021 میں کاراباخ پر آرمینیا کے ساتھ 44 روزہ جنگ میں بھی فوجی طاقت کا مظاہرہ دیکھا جا سکتا ہے۔ ان کے دور حکومت میں آذربائیجان نے کاراباخ کے علاقے کو فتح کیا۔ دوسری طرف، انہوں نے تیل اور قدرتی گیس کے ذخائر کو آذربائیجان کی آمدنی کا سب سے بڑا ذریعہ بنایا۔
