دھاری دار لوچ مچھلی کے تحفظ کے لیے جنوب مشرقی ترکی میں آگاہی مہم شروع کر دی گئی۔
دھاری دار لوچ مچھلی دنیا میں سب سے زیادہ تلاش کی جانے والی مچھلیوں میں سے ایک ہے۔
شدید خطرے سے دو چار دھاری دار لوچ کو ساسون ندی مین دیکھا گیا ہے جو پچھلے 50 سال میں پہلی دفعہ ہوا ہے۔
جیسے ہی دھاری دار لوچ کی دوبارہ دریافت کے بارے میں معلوم ہوا تو ترک محقق کنیت کایا، جو ماہی گیری میں ماہر حیاتیات ہیں انہوں نے ریز صوبے میں ترکی کی رجب طیب ایردوان یونیورسٹی کے ریسرچ فیلو منیوور اورل کے ساتھ مل کر دھاری دار لوچ کو بچانے کی کوشش شروع کردی۔
انکا کہنا ہے کہ دھاری دار لوچ انٹرنیشنل یونین فا ر کنزرویشن آف نیچر کی خطرے میں مبتلہ سمندری جانوروں کی فہرست میں شامل ہے۔
کایا اور اورل نے ہائی اسکول کے طلباء کو بیٹ مین صوبے میں آگاہی مہم کے ایک حصے کے طور پر خطرے سے دوچار مچھلیوں کی انواع پر ایک لیکچر دیا۔
انہوں نے حال ہی میں خطے میں طویل مدتی فیلڈ ورک کے دائرہ کار میں مچھلیوں کے تحفظ کے لیے مقامی منتظمین اور قومی تعلیم کے ڈائریکٹرز کے ساتھ ملاقاتیں بھی کیں۔
اورلن کا کہنا تھا کہ دوسرا اور سب سے ضروری کام نسلوں کی حفاظت کرنا ہے اور انہیں سہی سلامت اگلی نسلوں کے حوالے کرنا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ دھاری دار لوچ کا قدرتی مسکن، جو صرف اس خطے میں رہتا ہےاسکو شدید خطرات لاحق ہیں۔
اورل کا کہنا تھا کہ خشک سالی، آلودگی، سیوریج، زرعی کھاد، پلاسٹک کا فضلہ، ندی کے بستر میں تبدیلی، تعمیراتی مشینری، کانوں سے نکلے والا گندہ مادہ ہر قسم کی نسل کے لیے خطرناک ہے۔
